امام اہل سنت ، واقف مقام نبوت ، سیدی اعلی حضرت احمد رضا حنفی نوراللہ مرقدہ نقل فرماتے ہیں:
قرآن کریم کا رسم الخط حضور سرور کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہی صادر ہوا ہے ، اور حضور نے ہی کاتبین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم کو حکم فرمایا کہ:
اِسے اِس ہیئت مذکورہ پر لکھیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جو سنا ، اُس میں انھوں نے کسی طرح کی کوئی کمی ، یا زیادتی نہیں کی ۔
صحابہ ۔۔۔۔۔۔ کو رسم قرآن میں ایک بال برابر بھی کسی حذف و اضافہ کی کوئی گنجائش نہیں ، وہ تو حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ” توقیفی ” ہے ۔
حضور ہی نے انھیں ہیئتِ معروفہ پر لکھنے کا حکم فرمایا ، کہیں پر حروف کی زیادتی ، اور کہیں پر کم کرنے کا اشارہ فرمایا ؛ اس میں وہ راز ہے جہاں عقول کی رسائی نہیں ہو سکتی ۔
اور یہ رموز الہیہ میں سے ایک راز ہے ، اللہ تعالی نے اپنی کتاب عزیز کو اس سے خاص فرمایا ہے ، باقی اور دیگر آسمانی کتابوں کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ؛ اور جیسا کہ:
” نظم قران معجز ہے ، اسی طرح رسمِ قران بھی معجز ہے ۔ ”
( انباءالحی ان کلامہ المصؤن تبیان لکل شی ( مترجم: قران ہر شے کا بیان ، ص 630 ، 631 ، ط مکتبہ اعلی حضرت لاہور ، س 1423ھ )
یہ نفیس اصول یاد کرلینا چاہیے تاکہ کسی زندیق کا پیداکردہ شبہہ دل کے قریب نہ پھٹکے ۔
خاک راہ حجاز
لقمان شاہد
21.9.2024 م
