Site icon اردو محفل

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ‌ – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 23

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ‌ ۞

ترجمہ:

اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے

حضرت ابن عمر اور مجاہد نے بیان کیا ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے، اس کا معنی ہے : اللہ سبحانہ نے ہمارے لیے جو ثواب رکھا ہے وہ اس کا انتظار کررہے ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ کی جنت میں رویت کی نفی پر معتزلہ کا استدلال اور اس کے جوابات

معتزلہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھنے کا انکار کیا ہے اور اس آیت سے استدلال کیا ہے :

لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُز وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ (الانعام : ١٠٣)

آنکھیں اللہ تعالیٰ کا ادراک نہیں کرسکتیں اور اللہ تعالیٰ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے یعنی انہیں دیکھتا ہے۔

معتزلہ کا اس آیت سے استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں کفار کی آنکھیں مراد ہیں یعنی کفار قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکیں گے، جیسا کہ اس آیت میں اس کی تصریح ہے :

کَلَّآ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ۔ (المطففین : ١٥)

ہر گز نہیں ! یہ کفار اس دن اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے۔

اور اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ الانعام کی اس آیت میں مؤمنوں اور کافروں سب کی آنکھیں مراد ہیں تو ہمیں کہیں گے کہ المطففین : ١٥ کی بناء پر اس میں تخصیص کرلی گئی اور اس سے مراد صرف کافروں کی آنکھیں ہیں اور اگر الانعام : ١٠٣ کے عموم پر اصرار کیا جائے تو ہم کہیں گے کہ یہ آیت دنیا کے ساتھ خاص ہے یعنی دنیا میں کوئی اللہ سبحانہ کو نہیں دیکھ سکتا اور اگر اس آیت کو روز قیامت کے ساتھ خاص کیا جائے تو ہم کہیں گے کہ روز قیامت میں کئی احوال ہوں گے۔ بعض احوال میں اللہ سبحانہ جلال اور غضب میں ہوگا، اس وقت اللہ تعالیٰ کو کوئی نہیں دیکھ سکے گا اور جب اللہ رحم اور کرم فرمائے گا تو اس وقت مؤمنین اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور ان سب جوابات کے علاوہ ہم یہ کہتے ہیں کہ الانعام : ١٠٣ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بہ طور احاطہ کوئی نہیں دیکھ سکے گا، کیونکہ دیکھنے کو یہ لازم نہیں ہے کہ انسان جس چیز کو دیکھے اس کا احاطہ بھی کرے، ہم آسمان کو دیکھتے ہی اور اس کا احاطہ نہیں کرتے جب کہ آسمان متناہی ہے تو اللہ تعالیٰ کو دیکھنے سے یہ کیس لازم آئے گا کہ ہم اس کا احاطہ کرلیں، جب کہ اللہ تعالیٰ غیر متناہی ہے، نیز ہم کہتے ہیں کہ المطففین : ١٥ میں بھی یہ دلیل ہے کہ مؤمنین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ کفار اس دن اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے، پس اگر مؤمنین بھی اسدن حجاب میں رکھے جائیں تو مؤمنوں اور کافروں میں کیا فرق رہے گا اور یہ آیت خصوصیت سے کفار کی محرومی کی کیسے دلیل ہوگی۔

قیامت اور جنت میں اللہ تعالیٰ کی رئویت اور دیدار کے معانی

مؤمنین قیامت کے دن اور جنت میں اپنے رب کو دیکھیں گے، اس پر حسب ذیل احادیث میں دلیل ہے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت کے ادنیٰ شخص کا یہ مقام ہوگا کہ وہ اپنی جنتوں کی طرف اور اپنی بیویوں کی طرف اور اپنے خادموں کی طرف اور اپنی کنیزوں کی طرف، ایک ہزار سال کی مسافت سے دیکھ سکے گا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم شخص وہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے چہرے کی طرف صبح و شام دیکھے گا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیات پڑھیں :” وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ “ (القیامہ : ٢٢۔ ٢٣ )

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٢٧۔ ٢٥٥٦، اس حدیث کی سند ضعیف ہے)

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ جنتیں چاندی کی ہیں، ان کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے وہ چاندی کا ہے اور دو جنتیں سونے کی ہیں ان کے برتن اور جو کچھ ان میں سے وہ سونے کا ہے اور مسلمانوں اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اللہ کی کبریائی کی چادر ہوگی، جو جنت عدن میں اس کے چہرے پر ہوگی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٨٠۔ ٤٨٧٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٢٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٨٦، مصنف ابن ابی شبیہ ج ١٣ ص ١٤٨، مسند حمد ج ٤ ص ٤١١)

حضرت جریر البجلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا : بیشک تم لوگ اپنے رب کو بالکل ظاہر دیکھو گے جیسا کہ تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی، پس اگر تم اس کی استطاعت رکھتے ہو کہ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز پڑھنے سے مغلوب نہ ہو۔ ( یعنی فجر اور عصر کی نمازوں کو دوام کے ساتھ پڑھو) تو ایسا کرو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٥١۔ ٥٥٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٣٣، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٢٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٥١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ١٧٧، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٧٩٩، مسند احمد ج ٤ ص ٣٦٠ )

حضرت ابو رزین (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے ہر شخص اپنے رب کو دیکھے گا ؟ ( راوی عبید اللہ بن معاذ نے کہا : یعنی وہ قیامت کے دن تنہاء اپنے رب کو دیکھے گا) آپ نے فرمایا : ہاں اے ابورزین ! ، انہوں نے پوچھا : اللہ کی مخلوق میں اس کی کیا علامت ہے ؟ آپ نے فرمایا : اے ابو رزین ! کیا تم میں سے ہر شخص چاند کو نہیں دیکھتا ؟ ( ابن معاذراوی نے کہا : یعنی چودھویں رات میں کیا ہر شخص اکیلا چاند کو نہیں دیکھتا) ہم نے کہا : کیوں نہیں ! ، آپ نے فرمایا : پس اللہ سبحانہ تو سب سے زیادہ عظیم ہے (ابن معاذ نے کہا : چاند تو اللہ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے اور اللہ عزوجل تو بہت عظیم اور بہت بزرگ ہے) (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٣١، حافظ ابن حجر نے کہا : اس حدیث کی سند مقبول ہے)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پس جب حجاب کھول دیا جائے گا تو سب اللہ سبحانہ کی طرف دیکھیں گے، سو اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی رویت اور اپنے دیدار سے بڑھ کر زیادہ پسندیدہ کوئی چیز ان کو عطاء نہیں کی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھیں کو ٹھنڈک پہنچانے والی کوئی چیز عطاء کی تھی۔

( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٥٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٤٤١، مسند احمد ج ٤ ص ٣٣٤)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارا رب عزوجل تجلی فرمائے گا، حتیٰ کہ اب اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر سجدے میں گرجائیں گے، پھر اللہ سبحانہٗ فرمائے گا : اپنے سر اٹھائوکیون کہ یہ دن عبادت کرنے کا دن نہیں ہے۔ ( سنن دارقطنی، کتاب الرویۃ، رقم الحدیث : ٦٢ )

 

القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 23

Exit mobile version