القیامہ : ٢٣۔ ٢٢ میں فرمایا : اس دن بہت چہرے ترو تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
” ناضرۃ “ کا معنی
اس آیت میں ” ناضرۃ “ کا لفظ ” نضر “ کا معنی ہے : سونا، چاندی اور ” نضرۃ “ کا معنی ہے : تر و تازگی، زندگی کی رونق ” نضیر “ کا معنی ہے : ترو تازہ پر رونق پانی، سونے چاندی والا ” نضر اللہ وجہ “ کا معنی ہے : اللہ اس کا چہرہ تر و تازہ اور خوش و خرم رکھے۔ ( المفرادات ج ٢ ص ٦٤١، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)