Site icon اردو محفل

اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِىٍّ يُّمۡنٰىۙ – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 37

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِىٍّ يُّمۡنٰىۙ ۞

ترجمہ:

کیا وہ حقیر پانی کا قطرہ نہ تھا جس کو ٹپکایا جاتا ہے ؟

 

القیامہ : ٣٨۔ ٣٧ میں فرمایا : کیا وہ حقیر پانی کا قطرہ نہ تھا جس کو ٹپکایا جاتا ہے ؟۔ پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوا پھر ( اللہ نے) اس کو پیدا فرمایا پھر اس کو درست بنایا۔ نطفہ کا معنی اور اس کے ضمن میں وقوع قیامت کی دلیل

نطفہ اس قلیل پانی کو کہتے ہیں جو مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کی پسلی کے درمیان ہوتا ہے، اور اس کو مرت عورت کے رحم میں ڈال دیتا ہے، اس آیت میں انسان کی تحقیر کی طرف اشارہ ہے گویا انسان اس منی سے پیدا کیا گیا ہے جو نجاست کے مخرج سے نکلتی ہے، جو اگر انسان کے جسم پر لگ جائے تو جسم ناپاک اور اگر اس کے کپڑے پر لگ جائے تو وہ کپڑا نا پاک ہوجاتا ہے، سو جب انسان ایسی حقیر چیز سے پیدا کیا گیا ہے تو پھر اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے اکڑنا اور اس کی عبادت کرنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے اور اس آیت میں اشارہ اور کنایہ سے یہ بتایا ہے کہ انسان کو پہلی بار اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تو دوسری بار اس کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کب مشکل ہے۔

اس کی نظیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اشارہ اور کنایہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سیدہ مریم کی الوہیت اور ان کے خدا ہونے کا درج ذیل آیت میں ذکر فرمایا ہے :

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌط کَانَا یَاْکُلٰنِ الطَّعَام (المائدہ : ٧٥)

مسیح ابن مریم ( خدا نہیں ہیں) صرف اللہ کے رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت رسول گزر چکے ہیں اور ان کی ماں نیک اور سچی بندی تھیں اور وہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے۔

اس آیت میں بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) دونوں کھانا کھاتے تھے، گویا ان دونوں کو اپنی بقاء کے لیے کھانے کی احتیاج تھی اور جو اپنی بقاء کے لیے کھانے کا محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا اور جو کھانا کھاتا ہے وہ قضاء حاجت بھی کرتا ہے اور جو قضاء حاجت کرتا ہو وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے ؟ تو اس طرح لطیف پیرائے سے اشارہ اور کنایہ سے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی الوہیت کا رد فرمادیا، اسی طرح زیر بحث آیت میں لطیف پیرائے اور کنائے سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کو قائم کرنے اور انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر دلیل قائم فرما دی۔

القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 37

Exit mobile version