Site icon اردو محفل

اِنَّا هَدَيۡنٰهُ السَّبِيۡلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوۡرًا‏ – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 3

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا هَدَيۡنٰهُ السَّبِيۡلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

ہم نے اس کو (سیدھا) راستہ دکھا دیا، اب وہ چاہے شکر کرنے والا ہو یا ناشکرا۔

الدھر : ٣ میں فرمایا : ہم نے اس کو ( سیدھا) راستہ دکھا دیا اب وہ چاہے شکر کرنے والا ہو چاہے نا شکرا۔

” سبیل “ سے مرادعام راستہ ہے یا ہدایت کا مخصوص راستہ

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو اس ظاہرہ، حواس باطنہ اور عقل سلیم عطاء کی ہے، جن کی مدد سے انسان سیدھے راستے کو پاسکتا ہے۔

انسان اپنی تخلیق کی ابتداء میں تمام اشیاء معرفت سے خالی ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو عقل اور حواس عطاء فرمائے، جن کی وجہ سے وہ اشیاء کی معرفت حاصل کرتا ہے، اس آیت میں ” سبیل “ سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد عام راستہ ہو خواہ وہ خیر کا راستہ ہو یا شر کا، نجات کا راستہ ہو یا ہلاکت کا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ (البلد : ١٠) اور ہم نے انسان کو دونوں راستے دکھا دیئے۔

اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد ہدایت کا راستہ ہو اور یہی وہ معروف راستہ ہے جس کی تمام نبیوں اور رسولوں نے ہدایت دی ہے اور قرآن مجید نے اس راستہ پر سبیل کا اطلاق کیا ہے، مشرکین قیامت کے دن کہیں گے :

وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآئَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا۔ (الاحزاب : ٦٧ )

اور مشرکین کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی، جنہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کردیا۔

راستہ کی ہدایت دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ایسی نشانیاں رکھی ہیں کہ ان نشانیوں سے انسان اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کی توحید تک پہنچ سکتا ہے، اور انسان کو عقل عطاء کی ہے جس کے ذریعہ وہ جان سکتا ہے کہ کوئی چیز بھی کسی موجد کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی تو اتنی بڑی کائنات کسی موجد کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے اور اس کائنات کی یکسانیت یہ بتاتی ہے کہ اس کا موجد واحد ہے کیونکہ اس کائنات کا طبعی اور فطری نظام واحد ہے اور نظام کی وحدت ناظم کی وحدت کا تقاضا کرتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے مراد یہ بھی ہے کہ اس نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجا اور آسمانی کتابیں اور صحائف نازل فرمائے۔

انسان کو اختیار دیا ہے خواہ وہ شکر گزارہو خواہ نا شکرا

اس کے بعد فرمایا : اب وہ ( انسان) چاہے شکر کرنے والا ہو چاہے ناشکرا۔

اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو خیر اور شر اور نجات اور ہلاکت کے دونوں راستے دکھادیئے، کائنات میں اپنی ذات اور توحید پر دلائل رکھے اور انسان کو عقل دی کہ ہم تک پہنچ سکے، پھر مزید تنبیہ کے لیے نبیوں کو بھیجا اور کتابوں کو نازل کیا، اب انسان کا اختیار ہے وہ چاہے تو نجات کا راستہ اختیار کرکے شکر گزار بن جائے اور چاہے تو ہلاکت کا راستہ اختیار کر کے ناشکرا بن جائے، اس کی نظریہ آیت ہے :

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْقف فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ (الکہف : ٢٩ )

اور آپ کہیے کہ تمہارے رب کی طرف سے حق آچکا ہے، سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔

القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 3

Exit mobile version