پھر تیرے لیے ( حشر) میں خرابی ہو پھر تیرے لیے ( دوزخ) میں خرابی ہے
القیامہ : ٣٥۔ ٣٤ میں فرمایا :” اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ “ یعنی تیرے لیے ( مرتے وقت) خرابی ہو پھر ( قبر میں) تیرے لیے خرابی ہو۔ پھر تیرے لیے ( حشر میں) خرابی ہو پھر ( دوزخ میں) تیرے لیے خرابی ہو۔ ان آیتوں میں ایک دھمکی کے بعد دوسری دھمکی ہے اور ایک وعید کے بعد دوسری وعید ہے، لیکن ان آیتوں میں اس کی چار برائیوں کے مقابلہ میں چار وعیدیں ہیں، پہلی تین آیتوں میں اس کی چار برائیوں کا ذکر فرمایا : (١) اس نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کی تصدیق نہیں کی (٢) نماز نہیں پڑھی (٣) اس نے قرآن مجید کی تکذیب کی ( ٤) اس نے ایمان لانے سے اعراض کیا اور اپنے گھر کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا، پھر ان چار برائیوں کے مقابلے میں چار سزائوں اور چار وعیدوں کا ذکر فرمایا : (١) اس کے لیے مرتے وقت خرابی ہوگی (٢) قبر میں خرابی ہوگی (٣) حشر میں خرابی ہوگی (٤) دوزخ میں خرابی ہوگی۔
ایک قول یہ ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے نکلے تو وہ سامنے بنو مخزوم کے دروازے سے آ رہا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک بار یا دو بار جھٹکا دیا، پھر فرمایا :” اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ “ (القیامہ : ٣٥) پس ابو جہل نے کہا : کیا تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ؟ پس اللہ کی قسم ! میں اس وادی میں سب سے زیادہ معزز اور مکرم ہوں، پھر آپ کے اوپر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ( تفسیر امام عبد الرزاق رقم الحدیث : ٣٤٢٠۔ ٣٤٩ )
قتادہ نے کہا : ابو جہل اکڑ اکڑ کر جا رہا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ” اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ “ (القیامہ : ٣٤۔ ٣٥) تب ابوجہل نے کہا : میرا نہ تم کچھ بگاڑ سکتے ہو، نہ تمہارا رب کچھ بگاڑ سکتا ہے، پس بیشک میں ان دو پہاڑوں کے درمیان سب سے زیادہ معزز اور مکرم ہوں، پھر جنگ بدر کے دن اس نے مسلمانوں کی طرف سر بلند کر کے دیکھا اور کہا : آج کے بعد کبھی اللہ کی عبادت نہیں کی جائے گی، پھر اللہ سبحانہٗ نے اس کی گردن ماردی اور وہ بڑی ذلت اور رسوائی کے ساتھ قتل کردیا گیا۔
اس آیت میں ” اولیٰ لک “ کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ” اولیٰ “ کا معنی قریب ہے، یعنی تیرے لیے ہلاکت اور عذاب قریب ہے پھر اس کی تاکید کے لیے چار بار مکرر ذکر فرمایا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ تکریر اس لئے ہے کہ اس عذاب کو تو اپنے پہلے برے کام کے لیے لازم سمجھ لے، پھر دوسرے برے کام کے لیے، پھر تیرے برے کام کے لیے، پھر چوتھے برے کام کے لیے، جن کا ذکر القیامہ ٣٣۔ ٣١ میں مذکور ہے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ ” اولیٰ “ کا معنی ” ویل “ ہے یعنی ہلاکت، اور چار بار ” ویل “ کے ذکر کا معنی یہ ہے : تیرے لیے زندگی میں ویل ہو اور مرتے وقت ویل ہو اور حشر کے دن ویل ہو اور دوزخ میں دخول کے دن ویل ہو۔
اور اس کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ تیرے لیے ہلاکت ہو اور عذاب ہو اور اس کی تاکید کے لیے چار بار مکرر فرمایا۔
( الجامع الاحکام القرآن جز ٩٩ ص ١٠٤۔ ١٠٣، دارالفکر، بیروت، ٤١٥ ھ)
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :
ان آیات میں ابو جہل کے خلاف ہلاکت اور عذاب کی دعا ہے، یعنی دنیا اور آخرت میں تجھ پر بار بار ہلاکت اور عذاب آتا ہے، قفال نے کہا : اس آیت کے تین محمل ہیں ( ١) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کافروں کے لیے وعید ہے (٢) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمن اسلام سے ایک بات کہی، اس دشمن اسلام کو وہ بات ناگوار گزری تو اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کہی ہوئی بات کی مثل یہ آیتیں نازل فرما دیں (٣) اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ آپ اللہ کے دشمن سے یہ کلمات کہیں، گویا کہ جب ابو جہل اکڑ کر اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ آپ اس کے خلاف یہ دعائیہ کلمات کہیں، سن تیرے قریب اب وہ عذاب آپہنچا ہے، جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہ تھی۔
(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٣٧۔ ٧٣٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)