بیشک ہم نے کافروں کے لیے زنجیروں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے کافروں کے لیے زنجیروں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ بیشک نیکو کار ایسے مشروف کے جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہے۔ اس چشمے سے اللہ کے بندے پئیں گے، وہ اس چشمہ کو جہاں چاہیں گے بہا کرلے جائیں گے۔ ( الدھر : ٦۔ ٤)
ربط آیات اور مشکل الفاظ کے معانی
اس سے پہلی آیت میں شکر کرنے والوں اور نا شکروں کا ذکر فرمایا تھا، اب اس کے بعد کی دو آیتوں میں ان دونوں کے اخروی انجام کا ذکر فرمایا ہے، اور الف و نشر غیر مرتب کے طور پر پہلے ناشکروں کی سزا کا ذکر فرمایا ہے تاکہ نا شکروں اور ان کی سزا کا ذکر متصل ہوجائے، اس کے بعد شکر کرنے والوں کی جزاکا ذکر فرمایا ہے۔
الدھر : ٤ میں ’ ’ اعندنا “ کا ذکر ہے ” اعتداد “ کا معنی ہے : کسی چیز کو تیار کرنا حتیٰ کہ جب اس چیز کی ضرورت ہو وہ چیز حاضر اور موجود ہو، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
وقال قرینۃ ھذا ما لدی عتید۔ ( ق : ٢٣) اور اس کے ساتھ رہنے والا فرشتہ کہے گا : یہ حاضر ہے جو میرے پاس تھا۔
اور اس آیت میں ” سلا سلا ً “ کا ذکر ہے، اس کا معنی ہے : زنجیریں، جن سے مجرموں کے پیر باندھے جائیں گے اور اس میں ” اغلالا “ کا ذکر ہے، اس سے مراد طوق ہیں جن سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ جوڑ کر باندھ دیا جائے گا اور ” سعیر “ کا لفظ ہے، اس سے مراد ہے : دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ دوزخ ان صفات کے ساتھ بنائی جا چکی ہے، معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ دوزخ ابھی بنائی نہیں گئی اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی دوزخ ضرور بنائے گا، ہم کہتے ہیں کہ اس توجیہ میں بلا ضرورت قرآن مجید کی آیات کو مجاز پر محمول کرنا ہے۔