اہل جنت کے اوپر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے بھی اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، اور ان کا رب انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا.
الدھر : ٢١ میں فرمایا : اہل جنت کے اوپر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے بھی اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا۔
” سندس “ اور ” استبرق “ کا معنی
اس آیت میں ” سندس “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : باریک ریشم، باریک دیبا، علامہ سیوطی نے ” الاتقان “ میں لکھا ہے کہ جو الیقی نے کہا ہے کہ فارسی میں اس کا معنی ہے : باریک دیبا اور لیث نے کہا ہے کہ ارباب لغت اور مفسرین میں سے کسی کا اس میں اختلاف نہیں ہے کہ یہ لفظ مغرب ہے، یعنی اصل میں یہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کو عربی لفظ بنایا گیا ہے، شدلہ نے کہا : اصل میں یہ ہندی زبان کا لفظ ہے۔ ( لغات القرآن ج ٣ ص ٢٣٦، کراچی)
اور ” استبرق “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : ریشم کا زریں کپڑا۔ ( لغات القرآن ج ١ ص ٧٧، کراچی)
سونے اور چاندی کے کنگن میں تعارض اور اس کے جواب
نیز فرمایا اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔
ایک اور سورت میں ان کو سونے کے کنگن پہنانے کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
ان کے لیے دائمی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا جاری ہیں، وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔
ان آیات میں کوئی تعارض نہیں ہے، اہل جنت کو سونے اور چاندی دونوں کے کنگن بیک وقت پہنائے جائیں گے یا کبھی سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور کبھی چاندی کے، دوسرا جواب یہ ہے کہ انسانوں کی طبیعتیں اور مزاج مختلف ہوتے ہیں، بعض لوگ چاندی پسند کرتے ہیں اور بعض لوگ سونا پسند کرتے ہیں، جنت میں دونوں قسم کے کنگن ہوں گے جن کو سونا پسند ہوگا وہ سونے کے کنگن پہنیں گے اور جن کو چاندی پسند ہوگی وہ چاندی کے کنگن پہنیں گے، تیسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جنت کے ’ ولدان “ اور ’ ’ غلمان “ ( نو خیز، بےریش لڑکوں) کا ذکر ہے کہ وہ جنت میں چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہوں گے اور الکہف : ٣١ میں جنت کے مردوں کا ذکر ہے کہ وہ سونے کے کنگن پہنے ہوئے ہوں گے۔
” شراب طھور “ کا معنی
نیز اس آیت میں فرمایا : اور ان کا رب ان کو شراب طہور پلائے گا۔
” طھور “ ” طاہر “ کا مبالغہ ہے یعنی جنت کی شراب بہت زیادہ پاکیزہ ہوگی، اور وہ دنیا کی خمر ( انگور کی شراب) کی طرح نجس نہیں ہوگی، اور اس کو بنانے میں نا پاک اور نجس ہاتھوں کا استعمال نہیں ہوا ہوگا، اور جسم کے مسامات سے جو پسینہ نکلے گا اس میں بھی نجس شراب کی بو نہیں ہوگی بلکہ مشک کے پسینہ کی خوشبو آرہی ہوگی۔
مقاتل نے کہا : جنت کے دروازے پر ایک چشمہ ہے جو ایک درخت کے تنے سے نکلتا ہے، جو شخص اس مشروب کو پیتا ہے اس کا دل کمینہ اور حسد سے اور اس کے پیٹ میں جو بھی گندگی ہوتی ہے اس سے صاف ہوجاتا ہے اور یہی ” شراب طھور “ کا معنی ہے کیونکہ ” طھور “ کا معنی ہے : پاک کرنے والا۔
ابو قلابہ نے کہا : اہل جنت کو کھانے اور پینے کے بعد شراب طہور پلائی جائے گی، اس سے ان کے جسم کا باطن پاک ہوجائے گا، اور ان کی کھالوں سے پسینہ نکلے گا جس سے مشک کی خوشبو آئے گی اور ان دونوں قولوں کی بناء پر ” طھور “ کا معنی ” مطھر “ ہے اور یہ شراب ان کے باطن سے اخلاق مذمومہ اور اشیاء موذیہ خارج کردے گی۔
روح بشری ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف ترقی کرتی رہتی ہے اور ایک نور سے دوسرے نور کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے، حتیٰ کہ جب وہ روح تمام مقامات اور انوار طے کرتی ہوئی اللہ عزوجل کے قریب پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے نور، اس کی کبریائی اور عظمت کے مقابلہ میں تمام انوار مضمحل ہوجاتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ابرار کے ثواب اور ان کے درجات کو اس آیت پر ختم کیا کہ : اور ان کا رب ان کو شراب طہور پلائے گا۔