وہ جنت میں مسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، وہ جنت میں نہ گرمی کی دھوپ پائیں گے اور نہ سردی کی ٹھنڈک.
الدھر ١٣۔ ١٢ میں فرمایا : اور ان کے صبر کی جزاء میں ان کو جنت اور ریشمی لباس عطاء فرمایا۔ وہ جنت میں مسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، وہ جنت میں نہ گرمی کی دھوپ پائیں گے نہ سردی کی ٹھنڈک۔
وہ مسہریوں پر یا مسندوں پر ٹیک لگائے ہوئے جنت میں بیٹھے ہوئے ہوں گے، وہاں کی ہوا معتدل ہوگی، سرد ہوگی، گرم۔ ” زمھریر “ کا معنی بنو طے کی لغت میں چاند ہے، سو اس آیت کا معنی ہے : جنت میں خود بہ خود روشنی ہوگی، اس لیے وہاں نہ سورج کی ضرورت ہوگی نہ چاند کی۔