أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا ۞
ترجمہ:
محبت قائم کرنے کی وجہ سے یہ عذاب سے ڈرانے کی وجہ سے
تفسیر:
المرسلات : ٦ میں فرمایا : حجت قائم کرنے کی وجہ سے یا عذاب سے ڈرانے کی وجہ سے۔
رسولوں کو مبعوث فرمانے کی حکمت
یعنی جو فرشتے اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کے پیغام کو انبیاء (علیہم السلام) تک پہنچاتے ہیں یا انبیاء (علیہم السلام) مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں، وہ اس لیے ہے کہ مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے تاکہ کل قیامت کے دن جب کسی شخص سے پوچھا جائے : تم اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے یا تم نے برے اعمال ترک کیوں نہیں کیے یا نیک اعمال کیوں نہیں کیے ؟ تو وہ یہ نہ کہہ سکے کہ ہمارے پاس تو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچے ہی نہیں تھے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہ ِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ (النسائ : ١٦٥ )
ہم نے ثواب کی بشارت دینے والے اور عذاب سے ڈرانے والے رسول بھیجے تاکہ رسولوں کو بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہ جائے۔
یا رسولوں کو اس احکام دے کر لوگوں کے پاس بھیجا کہ وہ ان کو عذاب سے ڈرا کر برے اعمال ترک کرنے اور نیک اعمال کرنے پر آمادہ کریں۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 6
