اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جب ستارے بےنور کردیئے جائیں گے۔ اور آسمان کو چیر دیا جائے گا۔ اور جب پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دیئے جائیں گے۔ اور جب رسولوں کے حاضر ہونے کا وقت آجائے گا۔ کس دن کے لیے مدت مقرر کی گئی تھی۔ فیصلہ کے دن کے لیے۔ آپ کیا سمجھے کہ فیصلہ کا دن کیا ہے۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ (المرسلات : ١٥۔ ٨)
قیامت کے وقوع کی علامات
اس سے پہلی آیت میں قیامت کے وقوع کا بیان فرمایا تھا اور ان آیات میں قیامت کے وقوع کی علامات بیان فرمائی ہیں :
المرسلات : ٨ میں ” طمست “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : مٹا دینا اور نیست و نابود کردینا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
وَ اِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثََرَتْ ۔ (الانفطار : ٢) اور جب ستارے جھڑ جائیں گے۔
اور اس کا معنی مٹانا اور بےنور کرنا بھی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ ۔ (التکویر : ٢) اور جب ستارے بےنور کردیئے جائیں گے۔