اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : چلو اس ( دوزخ) کی طرف جس کو تم جھٹلاتے تھے۔ چلو اس ( دھوئیں) کے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔ ورنہ ( ٹھنڈا) سایہ فراہم کرنے والا ہے نہ شعلہ سے بچاتا ہے۔ بیشک دوزخ محل کے برابر انگارے پھینکتی ہے۔ گویا وہ زرد اونٹ ہیں۔ اس تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ (المرسلات : ٣٤۔ ٢٩ )
کفار کو آخرت کے عذاب سے ڈرانا
ان آیات سے بھی کفار قریش کو ڈرایا گیا ہے، سو ان آیتوں میں ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا ہے، دنیا میں کفار آخرت کے عذاب کا انکار کرتے تھے، اس لیے آخرت میں دوزخ کے محافظ ان سے کہیں گے : چلو اس عذاب کی طرف جس کا تم انکار کرتے تھے۔
مفسرین نے کہا ہے کہ قیامت کے دن سورج مخلوق کے سروں کے قریب ہوگا، اور اس دن لوگوں کے جسموں پر لباس نہیں ہوگا اور سورج کی گرمی سے ان کے بدن جھلس رہے ہوں گے، پھر جس پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے گا، اس کو اپنے سائے میں رکھے گا، قرآن مجید میں ہے :