Site icon اردو محفل

فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ كَيۡدٌ فَكِيۡدُوۡنِ – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 39

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ كَيۡدٌ فَكِيۡدُوۡنِ ۞

ترجمہ:

اگر تم کوئی چال چلنا چاہتے ہو تو میرے خلاف چال چلو.

المرسلات : ٣٩ میں فرمایا : اگر تم کوئی چال چلنا چاہتے ہو تو میرے خلاف چال چلو۔

کفار کا اللہ کے سامنے مکر کرنے سے عاجز ہونا

اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ کفار اور مشرکین مختلف حیلوں اور مکر سے لوگوں کے حقوق کو اپنی ذات سے دور کریں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اگر تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ میرے حقوق کو بھی اپنی ذات سے مکر اور حیلے سے دور کرسکو تو کرو، اور یہ امر تعجیز کے لیے ہے یعنی تم اس سے عاجز ہو کہ مکر اور حیلے سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو اپنی ذات سے دور کردو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم نے اپن مقرب بندے پر جو کلام نازل کیا ہے اگر تم کو اس کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہے، سو تم اس کلام کی مثل کوئی سورت بنا کرلے آئو۔ (البقرہ : ٢٣) حالانکہ کفار قرآن کی مثل کسی سورت کو لانے سے عاجز تھے تو جس طرح اس آیت میں ان کے عجز کو ظاہر کرنے کے لیے حکم دیا تھا، اسی طرح اس آیت میں بھی ان کے عجز کو ظاہر کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت کا معنی ہے : تم دنیا میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور مجھ سے جنگ کرتے تھے، آئو ! آج مجھ سے جنگ کرو، ایک قول یہ کہ تم دنیا میں میری نافرمانی کرتے تھے، آج تم میری نافرمانی نہیں کرسکتے اور نہ اپنے آپ کو نافرمانی سے بری کرسکتے ہو۔

قُلِ ادْعُوْاشُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔ (الاعراف : ١٩٥)

آپ کہیے کہ تم اپنے تمام شرکاء کو بلا لو، پھر تم سب مل کر مجھے نقصان پہنچانے کا حیلہ کرو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو ۔

القرآن – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 39

Exit mobile version