اس آیت میں ” جمالات “ کا لفظ ہے، یہ لفظ ” جمال “ کی جمع ہے، جیسے ” رحال “ کی جمع ” رحالات “ ہے اور ” بیوت “ کی جمع ” بیوتات “ ہے ” جمالات “ کی صفت ” صفر “ ہے، اس کا معنی زرد ہے اور اس سے مراد سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جو زردی کی طرف مائل ہوں، دوزخ کی آگ کے انگاروں کو دو چیزوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور وہ انگارے محل کے برابر ہوں گے اور زرد اونٹ کی مثل ہوں گے، اس سے مقصود یہ ہے کہ جس آگ کے انگارے اتنے بڑے بڑے ہوں گے وہ آگ کتنی عظیم ہوگی اور وہ انگارے اڑ کر دوزخیوں پر گریں گے اور جس شخص کے اوپر بلندی سے محل کے برابر یا اونٹ کے برابر کوئی چیز آ کر گرے، اس کا کیا حال ہوگا ؟ سو دوزخیوں کے اوپر جب اتنے بڑے انگارے گریں گے تو ان کا کس طرح کچومر نکل جائے گا، پھر ان لوگوں کو بتایا کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے اور کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں، ان کو ایسے عذاب کا سامنا ہوگا، پس ان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی تصدیق کریں، اور اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔