اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ وہ دن ہے جس میں وہ ( نفع آور) بات نہ کرسکیں۔ اور نہ انہیں عذر پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس دن تکذب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ فیصلہ کا دن ہے جس میں ہم نے تم کو اور پہلوں کو جمع کیا ہے۔ اگر تم کوئی چال چلنا چاہتے ہو تو میرے خلاف چال چلو۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔
(المرسلات : ٤٠۔ ٣٥)
متعدد وجوہ سے کفار کو قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرانا
المرسلات : ٣٥ میں اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل وجوہ سے کفار کو قیامت کے دن اور اس دن کے عذاب سے ڈرایا ہے :
(١) اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کفار اپنی بد عقیدگیوں اور برے اعمال پر کوئی عذر پیش نہیں کرسکیں گے اور نہ مذموم عقائد اور مذموم افعال کی توجیہ میں کوئی دلیل پیش کرسکیں گے۔
(٢) تمام لوگوں کے سامنے ان کے قبیح اور برے افعال پیش کیے جائیں گے اور جن لوگوں کے سامنے وہ عزت دار بنتے تھے، ان کے سامنے ان کو رسوا اور ذلیل کیا جائے گا اور شرمندگی اور رسوائی کا عذاب، تلوار کے ساتھ قتل کرنے اور آگ میں جلانے کی بہ نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
(٣) جو غلام بھاگا ہوا ہو، اس کو اس کے آقا کے سامنے پکڑ کر پیش کرنا، اس کے لیے سخت عذاب اور ذلت کا موجب ہوتا ہے۔
(٤) جن لوگوں کو وہ دنیا میں ذلیل اور حقیر سمجھتا تھا، وہ قیامت کے دن اس کے سامنے عزت اور سرفرازی سے نوازے جائیں گے اور وہ خود کو جن کے مقابلہ میں بہت عزت دار اور کامیاب سمجھتا تھا وہ ان کے سامنے ذلت اور خواری میں مبتلا کیا جائے گا اور یہ امور کفار کے لیے شدید اذیت کا باعث ہوں گے اور یہ چاروں وجوہ ان کے لیے روحانی عذاب کا باعث ہوں گی۔
(٥) اور پانچواں عذاب جسمانی ہے، وہ قیامت کے دن دوزخ کے عذاب اور اس کی شدید ہولناکی کا مشاہدہ کریں گے اور جب ان کو اتنے شدید قسم کے عذاب کا مشاہدہ کرایا جائے گا ( اللہ تعالیٰ ہم کو اس عذاب سے پناہ میں رکھے) جس کی تمام کفیات کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا، تو پھر ضرور ان لوگوں کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ اس دن تکذب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔
اس اعتراض کا وجوب کہ متعدد آیات سے ثابت ہے کہ کفار قیامت کے دن باتیں کریں گے پھر یہاں کیوں فرمایا : وہ اس دن بات نہ کرسکیں گے ؟
اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اس دن کوئی بات نہ کرسکیں گے، حالانکہ دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار قیامت کے دن بات کریں گے، وہ آیات یہ ہیں :
جن لوگوں نے کفر کیا تھا اور رسول کی نافرمانی کی تھی، وہ یہ چاہیں گے کہ کاش ! انہیں زمین کے ساتھ ہموار کردیا جائے، اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔
امام فخر الدین رازی متوفی ٥٠٦ ھ نے اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ذکر کیے ہیں :
(١) حسن بصری نے کہا : اس آیت میں ایک عبارت مقدر ہے اور پوری عبادت اس طرح ہے : یہ وہ دن ہے جس میں وہ کوئی بات نہیں کرسکیں گے، یعنی اپنے کفر و شرک کی تایید میں کوئی دلیل پیش نہیں کرسکیں گے اور نہ انہیں اس کی اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنا کوئی عذر پیش کرسکیں، کیونکہ انہوں نے جو کفر اور شرک کیا تھا، اس کا نہ کوئی عذر صحیح ہے نہ کوئی صحیح جواب ہے، پس جب وہ اپنے حق میں کوئی دلیل پیش کرسکیں گے اور نہ کوئی معقول توجیہ کرسکیں گے تو گویا انہوں نے کوئی بات نہیں کی، کیونکہ جو شخص کوئی مفید اور نفع آور بات نہ کرسکے گویا اس نے کوئی بات نہیں کی، جیسے اگر کوئی شخص کوئی مفید بات نہ کرے تو آپ اس سے کہیں کہ تم نے کوئی بات نہیں کی یا تم نے کچھ نہیں کیا۔
(٢) الفراء نے اس کے جواب میں کہا : یعنی وہ اس وقت کوئی بات نہیں کرسکیں گے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ پوری قیامت کے دن میں کوئی بات نہیں کرسکیں گے، اس کی مثال ایسے ہے جیسے آپ کسی شخص سے کہیں : جس دن فلاں شخص کراچی پہنچے گا میں اس دن آپ کے پاس آئوں گا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اس پورے دن میں آپ کے پاس آئوں گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت وہ کراچی پہنچے گا میں اس وقت آپ کے پاس آئوں گا۔
(٣) اس آیت میں یہ فرمایا ہے : یہ وہ دن ہے جس میں وہ کوئی بات نہیں کرسکیں گے۔ یہ جملہ مطلق ہے اور مطلق عموم کا فائدہ نہیں دیتا نہ انواع میں نہ اوقات میں، سو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ قیامت کے پورے دن میں کوئی بات نہیں کرسکیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے کفر اور شرک کیا ؟ تو وہ اپنی مدافعت میں کوئی بات نہیں کرسکیں گے۔
(٤) یہ آیت دوزخ کے محافظوں کے اس قول کے بعد ہے : چلو اس ( دھوئیں) کے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔ (المرسلات : ٣٠) اس وقت وہ دوزخ کے محافظوں کا حکم مانتے ہوئے دوزخ کے دھوئیں کی طرف چل پڑیں گے، جب دنیا میں انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام ماننے کا حکم دیا جاتا تھا تو وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے اور اس وقت وہ دوزخ کے محافظوں کے حکم کے اوپر بےچون و چرا عمل کریں گے حالانکہ میں دنیا میں انہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچائے جاتے تھے، ان پر عمل کرنے کی بہ نسبت قیامت کے دن دوزخ کے محافظوں کے حکم پر عمل کرنا سخت مشکل، دشوار اور عذاب اور ہلاکت کا موجب ہے، اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے سے انکار نہ کرتے اور عناد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرتے تو انہیں قیامت کے دن اس ہلاکت آفریں حکم پر عمل نہ کرنا پڑتا، خلاصہ یہ ہے کہ المرسلات : ٣٥ میں جو فرمایا : یہ ہو دن ہے جس میں وہ کوئی بات نہ کرسکیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دوزخ کے محافظ ان سے یہ کہیں گے : چلو اس ( دھوئیں) کے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے، تو وہ اس وقت دوزخ کے محافظوں کے سامنے کوئی بات نہ کرسکیں گے اور بےچون و چرا ان کے حکم پر عمل کریں گے، اور اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ قیامت کے پورے دن میں کوئی بات نہیں کرسکیں گے اور اس کی نظیریہ ہے کہ ایک عورت اپنے خاوند سے لڑائی کے دوران کہتی ہے : میں اسی وقت تمہارے گھر سے جا رہی ہوں، اس کا خاوند اس سے کہتا ہے : اگر تو گئی تو تجھے طلاق، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اسی وقت اس کے گھر سے گئی تو اس کو طلاق ہوگی، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ بعد میں جب بھی کبھی اس کے گھر سے گئی تو اس کو طلاق ہوجائے گی بلکہ اس کا جانا اسی وقت کے ساتھ مقید ہوگا، اسی طرح اس آیت میں جو فرمایا ہے : یہ وہ دن ہے جس میں وہ کوئی بات نہ کرسکیں گے، یہ بھی اسی وقت کے ساتھ مقید ہے جب دوزخ کے محافظ انہیں دوزخ کے دھوئیں کی طرف جانے کا حکم دیں گے، نہ کہ یہ معنی ہے کہ وہ قیامت کے پورے دن بات نہ کرسکیں گے۔