النبا : ١٧ میں فرمایا : بیشک فیصلہ کا دن مقرر شدہ وقت ہے۔
حیات بعد الموت پر دلائل اور شواہد کا خلاصہ ہے
اس سورت کے شروع میں عظیم خبر کا ذکر فرمایا تھا اور اس سے مراد حیات بعد الموت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے النبا : ٦ سے النبا : ٦ ١ تک حیات بعد الموت پر دس آیتوں میں دس دلائل پیش فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو میخیں بنایا اور لوگوں کو جوڑا جوڑا پیدا کیا، نیند کو راحت، رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش بنایا۔ الخ۔
اور ان دس چیزوں کو پیدا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو اس ساری کائنات کا علم ہے اور وہ ان کی تخلیق پر قاد رہے، پس وہ عالم اور قادر ہے اور واجب ہے کیونکہ ممکن تو خود اپنی تخلیق میں مختاج ہے اور جب وہ واجب ہے تو ضروری ہے کہ وہ واحد ہو، کیونکہ تعدد و جبا محال ہے اور جب وہ اس تمام کائنات کو ابتداء ً پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ اس کائنات کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔
اس آیت میں جو فرمایا ہے : بیشک فیصلہ کا دن مقرر شدہ وقت ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ دن اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں ہے، اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ایک دن مقرر فرمایا ہے جس میں قیامت قائم ہوگی، اس دن تمام لوگ ختم ہوجائیں گے اور ان کے اعمال بھی منقطع ہوجائیں گے، پھر ایک اور دن مقرر فرما دیا ہے جس میں صور پھونکا جائے گا تو تمام مردوہ لوگ زندہ ہوجائیں گے اور جو بےہوش تھے وہ ہوش میں آجائیں گے، پھر سب لوگوں کو جمع کر کے ان کا حساب لیا جائے گا، نیکوں کو ثواب دیا جائے گا اور بدکاروں کو عذاب دیا جائے گا۔