اور اگر ہم فرشتہ کو رسول بناتے تو ہم اس کو انسان ہی بناتے اور ہم ان پر اسی چیز کا التباس اور اشتباہ ڈال دیتے جس کا التباس اور اشتباہ انہیں اب ہو رہا ہے۔
اور لباس اس چیز کو کہتے ہیں جس کو پہنا جائے، مرد عورت کا لباس ہے اور عورت مرد کا لباس ہے، قرآن مجید میں ہے :
ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُن (البقرہ : ١٨٧) وہ ( بیویاں) تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔
وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ (الاعراف : ٢٦) اور تقویٰ کا لباس یہی زیادہ بہتر ہے۔
تقویٰ کے لباس سے مراد حیا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کے خوف سے یا عذاب کے ڈر سے فحش کاموں اور دیگر برائیوں کو ترک کردینا) ۔ (مختار الصحاح ص ٣٤٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
ہر وہ چیز جو انسان کی قبیح چیزوں کو ڈھانپ لے، اس کو لباس کہتے ہیں، شوہر بیوی کا لباس ہے کیونکہ بیوی کی ضروریات اور اس کی خواہش کو پورا کرنے کی وجہ سے وہ بیوی کو فحش اور غلط کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے، اسی طرح بیوی شوہر کا لباس ہے کیونکہ اس کی خدمت اور اس کی خواہش پوری کرنے کی وجہ سے وہ شوہر کو غلط راہوں پر جانے سے روکتی ہے۔
قفال نے کہا : اصل میں لباس ڈھانپنے کی چیز کو کہتے ہیں اور چونکہ رات اپنی ظلمت اور اندھیرے کی وجہ سے لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، اس لیے رات کو لباس فرمایا ہے، اور رات انسان کے حق میں اس لیے نعمت ہے کہ جب انسان اپنے دشمن سے چھپنا چاہے تو رات اس کے لیے ساتر ہوتی ہے اور جس طرح لباس کی وجہ سے انسان کا جمال زیاد اور کامل ہوتا ہے اور لباس کی وجہ سے وہ سردی اور گرمی کے ضرر کو دور کرتا ہے، اسی طرح رات کی نیند کی وجہ سے انسان کا حسن و جمال زیادہ ہوجاتا ہے، اس کی تھکاوٹ کے زائل ہونے کی وجہ سے اس کے چہرے سے اضمحلال دور ہوجاتا ہے اور وہ تر و تازہ اور شاداب ہوجاتا ہے اور اس کے دماغ سے تفکرات کا ہجوم نکل جاتا ہے اور وہ پر سکون ہوجاتا ہے۔