اس آیت میں ” زوج “ سے یہی آخری معنی مراد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس حال میں پیدا کیا ہے کہ تمہاری دو صفتیں ہیں اور تم دونوں کی وجہ سے نسل انسانی کا فروغ ہو رہا ہے اور زوج کا اطلاق ہر اس چیز پر کیا جاتا ہے جس کی دو مشقیں ہوں، عام ازیں کہ وہ جان دار چیزیں ہوں یا بےجان چیزیں ہوں، جیسے میاں بیوی، جرابیں، موزے اور جوتے وغیرہ، اسی طرح وہ متقابل چیزوں پر بھی زوج کا اطلاق کیا جاتا ہے، جیسے فقر اور غنا، صحت اور مرض، علم اور جہل اور قوت اور ضعف وغیرہ، اسی طرح قبیح اور حسین، طویل القامت اور قصیر القامت وغیرہ اضداد پر بھی زوج کا اطلاق کیا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور انتہائی حکمت پر واضح دلیل ہے کہ اس نے غنی اور فقیر، صحت مند اور بیمار اور توانا اور کمزورمتضاد صفات کے حامل انسان پیدا کیے تاکہ ان کا امتحان اور آزمائش ہو سکے اور یہ دیکھا جائے کہ غنی اور صحت مند، صحت اور خوش حالی پر شکر کرتا ہے، نہیں اور فقیر اور بیمار اپنے فقر اور مرض پر صبر کرتا ہے یا نہیں، کیونکہ انسان بیماری کی حالت میں صحت کی قدر کرتا ہے اور فقر کی حالت میں خوش حالی کی قدر کرتا ہے۔