النبا : 27 میں فرمایا : بیشک وہ کسی حساب کی امید نہیں رکھتے تھے۔
حساب کی امید نہ رکھنے کی توجیہات
اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انسان اس چیز کی امید رکھتا ہے جس میں اس کے لیے کوئی منفعت ہوتی ہے اور کوئی خیر ہوتی ہے اور کفار اور مشرکین کے لیے ان کے محاسبہ میں کون سی خیر اور کون سی منفعت ہے، جس وجہ سے وہ اس کی امید رکھیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں ” رجائ “ کے لفظ کا معنی امید نہیں ہے بلکہ توقع ہے، یعنی ان کو یہ توقع نہیں تھی کہ ان کا حساب لیا جائے گا، پھر اچانک قیامت کے دن ان کا محاسبہ شروع ہوجائے گا اور جو آفت اور مصیبت خلاف توقع پیش آجائے وہ اس کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ مفسرین نے کہا کہ اس آیت میں امید کا معنی خوف ہے یعنی کفار اور مشرکین قیامت کے دن کے حساب اور محاسبہ سے ڈرتے نہ تھے اور بےدھڑک فحاشی اور منکرات کا ارتکاب کرتے اور کفر و شرک کے علاوہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخیاں کرتے تھے۔
نیز اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ وہ مومن نہ تھے کیونکہ مومن تو ہر آن آخرت کا محاسبہ سے ڈرتا رہتا ہے۔