Site icon اردو محفل

فَذُوۡقُوۡا فَلَنۡ نَّزِيۡدَكُمۡ اِلَّا عَذَابًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 30

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَذُوۡقُوۡا فَلَنۡ نَّزِيۡدَكُمۡ اِلَّا عَذَابًا  ۞

ترجمہ:

اب چکھو ہم تمہارا عذاب بڑھانے ہی رہیں گے۔  ؏

 

النبا : ٠٣ میں فرمایا : اب چکھو ہم تمہارا عذاب بڑھاتے ہی رہیں گے۔

کفار سے اللہ تعالیٰ کے کلام کی توجیہ

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور مشرکین کے فح اقوال اور افعال بیان فرمائے تھے اور پھر ان کے عذاب کی اقسام اور انواع کو بیان فرمایا، اس کے بعد مکرر بیان فرمایا کہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور ہم نے ہر چیز کو گن کر لکھ رکھا ہے اور اب اس رکوع کے آخر

میں فرمایا : اب چکھو ہم تمہارا عذاب بڑھاتے ہی رہیں گے، یہ آیات ان کے عذاب میں مبالغہ پر کئی وجوہ سے دلالت کرتی ہے :

(١) اس آیت میں تاکید کے ساتھ فرمایا : فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا۔ (النبا : ٠٣) ہم تم میں ہرگز زیادہ نہیں کریں گے مگر عذاب۔

(٢) پہلے غائب کے صیغہ کے ساتھ فرمایا تھا : وہ محاسبہ سے نہیں ڈرتے ( النبا : ٧٢) اور اب بالمشافہ فرمایا : اب عذاب کو چکھو۔

(٣) حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ دوزخیوں کے اوپر اس سے زیادہ اس سے زیادہ شدید عذاب کی اور کوئی آیت نازل ہوئی نہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٦٦٩٧٢، دارالفکر، بیروت، ٥١٤١ ھ)

ایک سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا ہے :

وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (آل عمران : ٧٧) اور اللہ نہ ان سے کلام فرمائے نہ ان کی طرف دیکھے گا۔

اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا : پس چکھو، تو ان سے کلام تو فرمالیا، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : وہ ان سے لطف اور کرم سے کلام نہیں فرمائے گا اور یہ کلام ان کے ساتھ نہایت غضب سے ہے۔

نیز یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ کفار پر ہمیشہ ہمیشہ عذب ہوتا رہے گا اور ان کو ہر آن اور ہر لمحہ پہلے سے زیادہ عذاب ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 30

Exit mobile version