النبا : ٢٠ میں فرمایا : اور پاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔
قیامت کے دن پہاڑوں کے چھ احوال
اس آیت میں ” سراب “ کا لفظ ہے، شدید گرمی میں دوپہر کے وقت دھوپ کی تیزی سے ریگستان میں جو ریت پانی کی طرح چمکتی ہوئی نظر آتی ہے اور دور سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پانی بہ رہا ہے اور درختوں کا عکس اس میں دکھائی دے رہا ہے اس کو سراب کہتے ہیں کیونکہ اس چمکتی ہوئی ریت پر نظر پڑنے سے پانی کا دھوکا ہوجاتا ہے، اس لیے دھوکے اور فریب کے لیے سراب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
اور اس آیت میں ” سیرت “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینا یا کسی چیز کو اپنی جگہ سے ہٹا دینا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پہاڑوں کے حسب ذیل احوال ذکر فرمائے ہیں :
(١) پہلا حال یہ ہے کہ پہاڑوں پر ایک ضرب لگا کر ان کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا اور اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائے گا :
اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ پھر وہ بکھرے ہوئے غبار کی طرح ہوجائیں گے۔
(٤) چوتھاحال یہ ہے کہ پہاڑوں کو دھنک دیا جائے گا کیونکہ پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ ہو کر زمین کے مختلف حصوں میں پڑے ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ہوائوں کے ذریعہ ان کو دھنک ڈالے گا :
وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، سو آپ کہیے کہ میرا رب ان کو دھنک ڈالے گا ( یعنی ریزہ ریزہ کرے کے اڑا دے گا) ۔
(٥) پانچواں حال یہ ہے کہ جس طرح کسی سوراخ یا روشن دان سے سورج کی شعاعیں نکلتی ہیں اور ان میں روشنی کے باریک ذرات کے غبار دکھائی دیتے ہیں، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ہوائوں کو بھیجے گا تو وہ پہاڑوں کے ذرات کو اڑائیں گی اور وہ شعاعوں میں باریک ذرات کے منتشر غبار کی طرح دکھائی دیں گے :
اور آپ پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرتے ہیں کہ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بھی بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے۔
(٦) پہاڑوں کا چھٹا حال یہ ہے کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر سراب اور فریب نظر ہوجائیں گے اور حقیقت میں لاشی اور معدوم ہوجائیں گے اور جو شخص پہاڑوں کی جگہ دیکھے گا اس کو کوئی چیز نظر نہیں آئے گی جیسے کسی شخص کو دور سے ریگستان میں چمکتا ہوا پانی نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہاں پانی کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا اور اس حال کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا :
وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًا۔ (النبا : ٢٠) اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔
قیامت کے دہشت ناک مناظر بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ دوزخ کے ہولناک احوال بیان فرما رہا ہے۔