Site icon اردو محفل

ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ الۡحَـقُّ‌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 39

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ الۡحَـقُّ‌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا ۞

ترجمہ:

وہ دن برحق ہے، سو اب جو چاہے اپے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے.

النبا : ۳۹ میں فرمایا : وہ دن برحق ہے، سو اب جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے۔

حصول شفاعت کی دعا پر معتزلہ کا اعتراض اور اس کے جوابات

اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے اور اس دن کو حسب ذیل وجوہ سے حق فرمایا ہے۔

امام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

حضرت علی ابن ابی طالب (رض) ایک کم عقل عورت کے پاس سے گزرے، وہ یہ دعا کر رہی تھی : اے اللہ ! مجھے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت کے اہل لوگوں میں سے بنا دے، حضرت علی (رض) نے فرمایا : یوں دعا کرو کہ اے اللہ ! مجھے جنت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رفقاء سے بنا دے کیونکہ آپ کی شفاعت تو آپ کی امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہوگی۔

اس پر معتزلہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب تم یہ دعا کرتے ہو کہ اے اللہ ! ہمیں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت عطاء فرما تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ دعا کرتے ہو کہ اے اللہ ! ہمیں گناہ کبیرہ کرنے والوں میں سے بنا کیونکہ آپ کی شفاعت تو گناہ کبیرہ کرنے والوں کے لیے ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جس شخص نے شرک سے اجتناب کیا اور اس سے گناہ کبیرہ سر زد ہوگئے تو چونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان لایا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی تو اس کے یہ محاسن اس کو شفاعت کا اہل بنا دیتے ہیں، اور جب وہ یہ کہتا ہے کہ اے اللہ ! مجھے اپنے نبی کی شفاعت سے حصہ عطاء فرماتو گویا وہ یوں کہتا ہے : اے اللہ ! مجھے نیک کاموں کی توفیق عطاء فرما اور مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو تیری تعظیم کرتے ہیں اور تیری اطاعت اور عبادت سے تیرا تقرب حاصل کرتے ہیں، حتیٰ کہ میں شفاعت کو حاصل کرلوں اور اس کا اپنی دعا سے یہ مقصد نہیں ہوتا کہ اللہ اس کو کبیرہ گناہ کرنے والوں میں سے کردے :

ہمارے اس قول کے صحیح ہونے پر یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :

فَلَوْلَآ اَنَّـہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ ۔ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ (الصافات : ٣٤١۔ ٤٤١ )

پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔ تو وہ حشر تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ ان کی تسبیح نے ان کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی، اور اگر وہ تسبیح کرنے والے نہ ہوتے تو وہ مچھلی کے پیٹ سے نجات کے مستحق نہ ہوتے، اسی طرح مرتکب کبیرہ اپنے سابقہ نیک کاموں کی وجہ سے شفاعت کا مستحق ہوگا اور اس کی دوزخ سے نجات کی امید کی جائے گی، وہ اپنے کبیرہ گناہوں کی وجہ سے شفاعت کا مستحق نہیں ہوگا، نیزمعتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ گناہ صغیرہ کا مرتکب اگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے تو اس کی مغفرت ہوجائے گی تو ان سے یہ کہا جائے گا کہ جس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنی مغفرت کا سوال کیا تو تمہارے اعتراض کے طور پر اس کی دعا کا یہ معنی ہوگا کہ اے اللہ ! مجھے صغیرہ گناہوں میں مبتلا رکھ تاکہ تو میری مغفرت کردے حالانکہ اللہ تعالیٰ سے گناہوں کے طلب کرنے کی دعا کرنا بالکل جائز نہیں ہے اور تم جو اس اعتراض کا جواب دو گے ہماری طرف سے شفاعت کی دعا پر تمہارے اعتراض کا وہی جواب ہوگا۔

اگر معتزلہ ہمارے معاوضہ کے جواب میں یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مرتکب صغیرہ ہوجائے تو ہم کہیں گے کہ جو شخص یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ! مجھے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت عطاء فرما تو اس دعا کا بھی یہ معنی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مرتکب کبیرہ ہونے کی دعا کر رہا ہے۔

( تلاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٣٧٣۔ ١٧٣، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، ٥٢٤١ ھ)

میں نے اپنے تلمیذ رشید مفتی محمد اسماعیل نورانی زید علمہ، وجبہ، کے سامنے جب معتزلہ کا یہ اعتراض ذکر کیا کہ حصول شفاعت کی دعا کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ یہ دعا کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو گناہ کی رہ کا مرتکب کر دے، کیونکہ حدیث میں ہے : میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدث : ٩٣٧٤) تو انہوں نے برجستہ کہا : یہ اعتراض تو اس وقت ہوتا ہے جب حدیث میں کوئی حصر کا لفظ ہوتا جب حدیث میں کوئی حصر کا لفظ ہوتا کہ میری شفاعت صرف مرتکب کبائر کے لیے ہوگی حالانکہ احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت کی متعدد اقسام ہیں : (١) آپ کی شفاعت کبریٰ تمام اہل محشر کے لیے ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا حساب لینا شروع کر دے (٢) اور آپ صالحین کے لیے ترقی درجات کے لیے شفاعت فرمائیں گے (٣) جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے آپ ان کی نجات کے لیے شفاعت فرمائیں گے (٤) آپ اپنے اہل بیت کے لیے خصوصی شفاعت فرمائیں گے (٥) آپ ستر ہزار در ستر ہزار مؤمنوں کے لیے شفاعت فرمائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بغیر حساب اور کتاب کے جنت میں داخل فرمادے (٦) اذان کے بعد آپ پر درود پڑھ کر آپ کے لیے وسیلہ کی دعا کرنے والوں کے لیے شفاعت فرمائیں گے (٧) جو مسلمان آپ کی قبر انور کی زیارت کریں گے ان کے لیے شفاعت فرمائیں گے (٨) جنت کا دروازہ کھلوانے کے لیے شفاعت فرمائیں گے (٩) اہل مدینہ کے لیے شفاعت فرمائیں گے (٠١) اذان میں نام اقدس سن کر انگوٹھوں کو چومنے والوں کے لیے شفاعت فرمائیں گے۔

ان دس قسموں کے علاوہ ایک قسم یہ ہے کہ آپ کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے بھی شفاعت فرمائیں گے، سو حصول شفاعت کی دعا کرنے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ دعا کرنے والے کو کبیرہ گناہ کرنے والوں سے کردیا جائے ؟ یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ اس کو باقی دس قسموں میں سے کسی قسم میں کردیا جائے، سو یہ جواب سن کر میں نے متفی اسماعیل کی بہت تحسین کی اور ان کو دعا دی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے شاگرد کو ایسا ذہن عطاء فرمایا ہے اور حاضر جواب بنایا ہے، واللہ الحمد علیٰ ذالک۔

النبا : ۳۹ میں فرمایا : وہ دن برحق ہے، سو اب جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے۔

روز قیامت کے حق ہونے کی توجیہ

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس دن سوا حق کے اور کوئی بات نہیں کہی جائے گی اور اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کا دن برحق ہے، وہ ضرور واقع ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا : سو اب جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے، یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے لیے گم راہی اور ہدایت کے دونوں راستے وضاحت سے دکھا دیئے ہیں اور کسی کو ہدایت یا گمراہی اختیار کرنے سے نہیں روک اور جس نے رشد اور ہدایت کے راستہ کو اختیار کیا اس کا ٹھکانہ جنت کی طرف ہے اور یہی راستہ اس کے رب کی طرف ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کا معنی ہے : جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ کے گا، اس کو ہدایت دے گا حتیٰ کہ وہ اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے گا۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ٦٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥٦٤١ ھ)

عطاء نے کہا : اپنے رب کی اطاعت کر کے اور اس کا قرب حاصل کر کے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنائو۔

( جامع البیان رقم الحدیث : ٢١٠٨٢) النبا : ٠٤ میں فرمایا : بیشک ہم نے تمہیں آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے، اس دن آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر کہے گا : اے کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 39

Exit mobile version