النزعت : ٤ میں فرمایا : پھر ان کی قسم جو پوری قوت سے آگے بڑھتے ہیں۔
مجاہد اور ابوروق نے کہا : جو ابن آدم کی خیر اور عمل صالح کو پہنچانے میں سبقت کرتے ہیں، مقاتل نے کہا : یہ وہ فرشتے ہیں جو ارواح مؤمنین کو جنت میں لے جانے میں سبقت کرتے ہیں، حضرت ابن مسعود نے کہا : یہ مؤمنین کی روحیں ہیں جو فرشتوں کی طرف سبقت کرتی ہیں، یہ اللہ کی ملاقات اور اس کی رحمت اور کرامت کے شوق میں آگے بڑھتی ہیں، عطاء نے کہا : یہ گھوڑے ہیں، قتادہ نے کہا : یہ ستارے ہیں، بعض بعض سے چلنے میں سبقت کرتے ہیں۔ ( الکشف و الخفاء ج ٠١ ص ٤٢١ )
حضرت علی (رض) نے کہا : یہ وہ فرشتے ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) تک وحی پہنچانے میں شیاطین پر سبقت کرتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ بنو آدم نیک اعمال کی طرف سبقت کرتے ہیں تو یہ ان کو لکھ لیتے ہیں۔
( الجامع الاحکام القرآن جز ٩١ ص ٨٦١، دارالفکر، بیروت، ٥١٤١ ھ)
امام ابو منصور محمد بن ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :
” السابقات “ سے مراد مؤمنین کی ارواح ہیں، ان کو ” سابقات “ اس لیے فرمایا کہ جب وہ روحیڈ یہ دیکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کیا کیا تکریم اور خیر تیار کی ہے تو وہ اپنے مقرر وقت سے پہلے اپنے اجسام سے نکلنا چاہتی ہیں تاکہ وہ اجسام سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی تیار کی ہوئی کرامت تک پہنچ جائیں۔ اس کی تایید اس سے ہوتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٥٩٢)
ایک قول یہ ہے کہ یہ سبقت موت کے وقت ہوگی، جب مومن کو موت آئے گی تو وہ اس وقت میں اس قیدی کی طرح ہوگا جو قید سے رہائی اور راحت چاہتا ہو کیونکہ اس وقت مومن دیکھے گا کہ اس کے لیے کیا ثواب تیار کیا گیا ہے، پس اس وقت اس کی خواہش ہوگی کہ وہ اس جسم سے نکل کر اس ثواب تک پہنچ جائے اور کافر جب دیکھے گا کہ اس کے لیے کیا عذاب تیار کیا گیا ہے تو اس کی روح اس جسم سے نکلنا ناپسند کرے گی اور اس وقت اس کے لیے یہی دنیا جنت ہوگی اور وہ اپنے عذاب کو دیکھ کر اس جسم سے جدا ہونا نہیں چاہے گی اور اس کی نا یید نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے ہوتی ہے : جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٠٥٦۔ ٧٠٥٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٨٠٢)
کیونکہ جب مومن موت کے وقت جنت میں اپنے ثواب کو دیکھے گا، تو اس وقت اس کی روح جسم سے نکل کر جنت میں جانا اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرے گی اور جب موت کے وقت اپنے عذاب کو دیکھے گا تو اس کی روح جسم سے نکل کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرے گی۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٤٧٣، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، بیروت، ٥٢٤١ ھ)