Site icon اردو محفل

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 2

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا ۞

ترجمہ:

اور ان کی قسم جو نہایت نرمی سے ( مومن کی جان کے) بند کھولتے ہیں۔

 

النزعت : ٢ میں فرمایا : اور ان ( فرشتوں) کی قسم جو نہایت نرمی سے ( مومن کی جان کے) بند کھولتے ہیں۔

” ناشطات “ کا معنی اور مومن کی روح کا آسانی کے ساتھ جسم سے نکلنا

اس آیت میں ” ناشطات “ کا لفظ ہے، یہ ” ناشطۃ “ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے : گرہ یا بند کھولنے والے، فراء نے کہا : اس سے مراد ہے : مؤمنوں کی روحوں کو آسانی سے ان کے جسموں سے نکالنے والے فرشتے، ” انشطت العقال “ کا معنی ہے : میں نے اونٹ کے زانو بند کی گرہ کھول دی ” نشط “ کا معنی ہے : گرہ لگانا اور ” انشط “ کا معنی ہے : گرہ کھولنا، نیز ” نشاط “ کا معنی خوش ہونا بھی ہے، اس صورت میں معنی ہوگا : مؤمنوں کی خوش ہونے والی روحیں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : مؤمنوں کی روحیں خوشی خوشی اپنے جسموں سے نکلتی ہیں کیونکہ ان کے نکلنے سے پہلے ہی ان کے سامنے جنت کردی جاتی ہے۔ ( لغات القرآن ج ٦ ص ٣١۔ ٢١ )

امام ثعلبی متوفی ٧٢٤ ھ فرماتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یعنی فرشتے مومن کے جسم سے اس کی گرہ یا اس کا بند کھول دیتے ہیں : جس طرح جب اونٹ کی ٹانگ سے بندھی ہوئی رسی کو کھول دیا جائے تو کہتے ہیں : ” نشطت العقال من یدالبعیر “ یہ فراء کا قول ہے، اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس کا منی ہے : مؤمنوں کی روحیں خوشی خوشی اپنے جسموں سے نکلتی ہیں، کیونکہ جو مومن بھی فوت ہوتا ہے، مرتے سے پہلے اس کو جنت پیش کی جاتی ہے اور وہ اس میں اپنی ان ازواج کو دیکھتا ہے جو بڑی آنکھوں والی حوریں ہیں۔ ( الکشف والخفاج ٠١ ص ٣٢١، معالم التنزیل ج ٥ ص ٤٠٢، الجامع الاحکام القرآن جز ٩١ ص ٦٦١ )

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : مؤمنین کی روحیڈ جب ملک الموت کو دیکھیں گی تو ملک الموت کہے گا : اے نفس مطمئنہ : چلو روح اور ریحان ( خوشی اور خوشبو) کی طرف اور رب کی طرف جو ناراض نہیں ہے اور خوشی خوشی کر امت کے ساتھ جنت کی طرف چلو۔ ( المنثورج ٨ ص ١٧٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٢٤١ ھ)

حارث بن نزری کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدین نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک انصاری کے سرہانے ملک الموت کھڑا ہوا تھا، میں نے کہا : اے ملک الموت ! میرے صحابی کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ یہ مومن ہے، ملک الموت نے کہا : یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ خوش ہوں اور اپنی آنکھ ٹھنڈی رکھیں، بیشک میں مومن کے ساتھ نرمی کرنے والا ہوں۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ٤٨٧١، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٨٨١٤)

عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کی موت کے وقت پیشانی پر پسینہ ہوتا ہے۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٨٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ٧٦٨١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٤١، مسند احمد ج ٥ ص ٠٥٣ )

اس حدیث کے دو محمل ہیں : ایک یہ کہ موت کی شدت سے کنایہ ہے، دوسرا یہ کہ یہ موت کے وقت خیر کی علامت ہے۔

مؤمن کی روح کھینچنے کی کیفیت

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ مومن دنیا سے منقطع ہو کر آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اسکے پاس آسمان سے سفید چہرے والے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے چہرے آفتاب کی طرح روشن ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ جنت کے کفن ہوتے ہیں اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے، حتیٰ کہ وہ منتہائے نظر تک بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت آ کر اس مومن کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے، اور اس سے کہتا ہے : اے ابلیس مطمئنہ ! اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا کی طرف نکل، پھر اس کی روح اس کے جسم سے اس طرح نکلتی ہے جس طرح مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے، پھر فرشتہ اس روح کو پکڑ لیتا ہے اور پکڑنے کے بعد پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کو نہیں چھوڑتا اور اس کو اس کفن میں اور اس خوشبو میں رکھ دیتا ہے اور اس سے روئے زمین کی سب سے پاکیزہ مشک کی وشبو آتی ہے، فرشتے اس روح کو لے کر فرشتوں کی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، فرشتے ان سے پوچھتے ہیں : یہ کیسی پاکیزہ معطر روح ہے ؟ وہ بتائیں گے یہ فلاں بن فلاں ہے اور اس کا وہ نام بتائیں گے جو اس کا دنیا میں سب سے اچھا نام تھا، حتیٰ کہ وہ فرشتے اس روح کو لے کر آسمان دنیا پر پہنچیں گے اور اس کے لیے آسمان کھلوائیں گے تو آسمان کھول دیا جائے گا، پھر آسمان دنیا سے لے کر ساتویں آسمان تک اس کا ہر آسمان پر استقبال کیا جائے گا، پس اللہ عزوجل فرمائے گا : میرے بندہ کا صحیفہ اعمال علیین میں رکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لے جائو، میں نے اسی زمین سے ان کو پیدا کیا ہے اور اسی زمین میں ان کو لوٹائوں گا اور اسی زمین سے ان کو دوبارہ نکالوں گا، پھر اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جائے گا، پھر اس کے پاس دو فرشتے آ کر اس کو بٹھا دیں گے اور اس سے پوچھیں گے : تمہارا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا : میرا رب اللہ ہے، وہ پھر پوچھیں گے : تمہارا دین کیا ہے ؟ وہ کہے گا : میرا دین اسلام ہے، وہ پھر پوچھیں گے : یہ کون شخص ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہے گا : وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، وہ کہیں گے : تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟ وہ کہے گا : میں نے کتاب اللہ کو پڑھا، پس میں ان پر ایمان لایا اور ان کی تصدیق کی، پھر آسمان سے ایک منادی ندا کر دے گا : میرے بندہ نے سچ کہا، اس کے لیے جنت سے فرش بچھا دو ، اور اس کو جنت کا لباس پہنا اور اس کے لیے جنت سے ایک کھڑی کھول دو ، پھر اس کے پاس جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آئے گی اور حد نگاہ تک اس کی قبر میں توسیع کردی جائے گی، پھر اس کے پاس ایک خوب صورت شخص آئے گا، جس کا لباس بھی حسین ہوگا اور اس کی خوشبو بھی بہت اچھی ہوگی، وہ کہے گا تمہیں اس چیز کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، وہ کہے گا : تم کون ہو ؟ تمہارا چہرہ تو بہت حسین ہے اور خیرانگیز کہے گا تمہیں اس چیز کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، وہ کہے گا : تم کون ہو ؟ تمہارا چہرہ تو بہت حسین ہے اور خیر انگیز ہے، وہ کہے گا : میں تمہارا نیک عمل ہوں، تو وہ کہے گا : اے میرے رب ! قیامت کو قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ جائوں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ کافر دنیا سے منقطع ہو کر آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو آسمان سے سیاہ فام فرشتے اترتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ ہوتا ہے اور وہ منتہائے نظر تک بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت آ کر اس کافر کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے : اے خبیث روح ! اللہ کی ناراضگی اور غضب کی طرف نکل، وہ روح اس کافر کے جسم میں پھیل جاتی ہے، وہ اس روح کو اس طرح گھسیٹ کر نکالتے ہیں جس طرح کانٹوں والی سلاخ میں پھنسے ہوئے گیلے اون کو کھینچ کر نکالا جاتا ہے، پھر وہ اس روح کو پکڑ لیتے ہیں اور پکڑنے کے بعد پلک جھپکنے کی مقدار بھی نہیں چھوڑتے حتیٰ کہ اس کی روح کو اس ناٹ میں لپیٹ دیتے ہیں، اس سے مردار کی طرح سخت بدبو نکلتی ہے، وہ اس روح کو لے کر چڑھتے ہوئے فرشتوں کی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں : یہ کون خبیث روح ہے ؟ وہ بتاتے ہیں : یہ فلاں بن فلاں ہے اور دنیا میں اس کے بدترین نام کو بتاتے ہیں، حتیٰ کہ آسمان دنیا میں پہنچتے ہیں، آسمان کو کھلواتے ہیں تو آسمان کو نہیں کھولا جاتا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی :

لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاط ِط (الاعراب : ٠٤)

ان (کافروں کے لیے) آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے، حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل ہوجائے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کو سب سے نچلی زمین سجین میں داخل کردو، پھر اس کی روح کو پھینک دیا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی :

وَمَنْ یُّشْرِکْ بِ اللہ ِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ۔ (الحج : ١٣)

جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ گویا آسمان سے گرپڑا اب یا تو اسے پرندے اچک کرلے جائیں گے یا ہوا اس کو دوردراز کی جگہ پر پھینک دے گی۔

پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جائے گی، پھر دو فرشتے آ کر اس کو بٹھائیں گے اور اس سے پوچھیں گے : تیرا رب کون ہے ؟ ہے کہے گا : افسوس ! میں نہیں جانتا، وہ پوچھیں گے : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہے گا : افسوس میں نہیں جانتا، وہ پوچھیں گے : یہ شخص کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے ہیں ؟ وہ کہے گا : افسوس میں نہیں جانتا، پھر آسمان سے ایک منادی ندا کرے گا : یہ جھوٹ بول رہا ہے، اس کے لیے دوزخ سے فرش بچھا دو ، اور اس کے لیے دوزخ کی کھڑکی کھول دو ، پھر اس کے پاس دوزخ کی گرم ہوائیں آئیں گی اور اس کی قبر کو تنگ کردیا جائے گا حتیٰ کہ اس کی ادھر کی پسلیاں ادھر نکل جائیں گی اور اس کے پاس ایک بد صورت شخص آئے گا جس کا لباس بھی بہت برا ہوگا اور اس سے سخت بدبو آرہی ہوگی، پس وہ کہے گا : تمہیں بری چیزوں کی بشارت ہو، یہ تمہارا وہ دن ہے جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا، وہ کافر کہے گا : تم کون ہو ؟ تمہارا چہرہ تو بہت خوفناک ہے جو شر انگیز ہے، وہ شخص کہے گا : میں تمہارا خبیث عمل ہوں، تب وہ کافر کہے گا : اے میرے رب ! قیامت قائم نہ کرنا۔

(مسند احمد ج ٤ ص ٨٨٢ طبع قدیم، مسند احمد ج ٠٣ ص ٩٩٤۔ رقم الحدیث : ٤٣٥١، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ٩١٤١ ھ، مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث ٨٥٠٢١، درالکتب العلمیہ، بیروت، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٨٣۔ ٠٨٣، مصنف عبد الرزاق ج ٣ ص ٥٧٣ طبع جدید، دارالکتب العلمیہ، بیروت، المستدرک ج ١ ص ٨٣٣۔ ٧٣٣ شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٩٣، کتاب الزہد بن المبارک رقم الحدیث : ٩١٢١، کتاب الشریعۃ للآجری رقم الحدیث ٢١٨۔ ص ٢٠٣١، الترغیب والترہیب للمنذری رقم الحدیث : ١٢٢٥۔ ج ٤ ص ١٧٢۔ ٠٧٢، حافظ منذری نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے مجمع الزوائد ج ٢ ص ٠٥۔ ٩٤، حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٠٣٦١، جمع الجوامع رقم الحدیث : ٤٦١٥، کنز العمال رقم الحدیث : ٥٩٤٢٢، شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ للالکائی المتوفی ٨١٤ ھ۔ ج ٢ ص ٢٥١۔ رقم الحدیث : ٠٤١٢، شرح الصدور ص ٥٥۔ ٤٥، حافظ سیوطی نے اس حدیث کو امام ابن ابی حاتم اور امام ابن جریر کے حوالہ سے بھی لکھا ہے لیکن بسیار تلاش کے بعد مجھے ان کی تفسیروں میں یہ حدیث نہیں ملی)

میں نے اس حدیث کے متعدد حوالہ جات اس لیے جمع کیے ہیں تاکہ قارئین کو یہ اطمینان ہو کہ یہ حدیث صحیح ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اس حدیث میں بندہ مومن کے خاتمہ کی جو کیفیت بیان کی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہم کو عطا کردے، اے میرے رب ! میرے لیے میری موت کو سہل اور آسان کر دے اور موت کے وقت میرے جسم سے میری روح کو اس طرح نکالنا جس طرح پانی کی مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے اور موت کے بعد بندہ مومن کو جن نعمتوں سے نوازنے کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ تمام نعمتیں مجھے اور میرے قارئین اور محبین کو عطاء فرمانا، میں نے اپنے قارئین کے لیے حسن خاتمہ کی دعا ہے، سو قارئین سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی میرے لیے حسن خاتمہ کی دعا کریں، خصوصاً ایسے خاتمہ کی جس کا اس حدیث ذکر ہے۔

اسی موضوع پر ایک اور حدیث ہے، جس کو حافظ جلال الدین سیوطین متوفی ١١٩ ھ نے ذکر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں :

امام بزار اور امام ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اس کے پاس فرشتے ایک ریشم کے ٹکڑے میں مشک اور مختلف پھول لے کر آتے ہیں، پھر اس کے جسم سے روح کو اس طرح نکالا جاتا ہے، جس طرح گندھے ہئے آٹے سے بال کو نکالا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے : اے پاکیزہ روح ! اس حال میں کہ تو راضی ہو اور تجھے راضی کیا گیا ہو، تو اللہ کی خوشی اور اس کی کرامت کی طرف نکل اور جب وہ روح نکلتی ہے تو اس کو اس مشک اور پھولوں پر رکھ دیا جاتا ہے اور اس ریشم کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس کو علیین کی طرف لے جایا جاتا ہے اور بیشک جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے ایک ٹاٹ میں انگارے رکھ کر لاتے ہیں، پھر اس کی روح کو نہایت سختی کے ساتھ کھینچ کر نکالا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے : اے خبیث روح ! اس حال میں کہ تو ناراض ہو اور تجھ پر اللہ ناراض ہو، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ذلت اور اس کے عذاب کی طرف نکل اور جب وہ روح نکل آتی ہے تو اس کو ان انگاروں پر رکھ دیا جاتا ہے اور اس ٹاٹ کو اس کے اوپر لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس کو سجین کی طرف لے جایا جاتا ہے۔

( شرح الصدور ص ٤٦، دارالفکر، بیروت، ٤٠٤١ ھ)

علامہ محمد بن محمد بن حبیب الماوردی متوفی ٠٥٤ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال لکھے ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” النشطٰت “ سے وہ فرشتے مراد ہیں جو مؤمنین کی روحوں کو آسانی کے ساتھ ان کے جسموں سے نکالتے ہیں۔

(٢) قتادہ نے کہا : یہ ستارے ہیں جن کو ان کی طلوع ہونے کی جگہوں سے غروب ہونے کی جگہوں کی طرف نکالا جاتا ہے۔

(٣) مجاہد نے کہا : یہ روح ہے، جو انسان کی روح کا بند کھول دیتی ہے۔

(٤) سدی نے کہا : یہ روح ہے، جس کا موت سے بند کھل جاتا ہے۔

(٥) عطاء نے کہا : یہ جانوروں کی گردنوں میں ڈالی جانے والی رسیاں ہیں۔

(٦) ابو عبید نے کہا : یہ وحشی جانور ہیں جن کو ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف کھول دیا جاتا ہے، جیسے تفکرات انسان کو ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف لے جاتے ہیں۔ (النکت والعیون ج ٦ ص ٣٩١، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 2

 

Exit mobile version