ایک صحابیؓ اور جن کی کُشتی(لڑائی)
امام الدینوری مالکی روایت کرتے ہیں:
حدثنا أبو إسماعيل، نا أبو نعيم، نا أبو عاصم الثقفي محمد بن أيوب، نا الشعبي؛ قال: قال ابن مسعود: لقي رجل من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم رجلا من الجن، فصارعه، فصرعه الإنسي، فقال له الجني: عاودني. فعاوده، فصرعه الإنسي، فقال له الإنسي: إني لأراك ضئيلا شخيتا، كأن ذريعتيك: ذريعا كلب؛ أفكذلك أنتم معاشر الجن، أم أنت منهم كذا؟ ! قال: لا والله إني منهم لضليع، ولكن عاودني الثالثة، فإن صرعتني علمتك شيئا ينفعك. قال: فعاوده، فصرعه؛ قال: هات علمني. قال: هل تقرأ آية الكرسي؟ قال: نعم. قال: فإنك لا تقرأها في بيت إلا خرج منه الشيطان، ثم لا يدخله حتى تصبح. فقال رجل في القوم: يا أبا عبد الرحمن! من ذاك الرجل من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم؛ هو عمر؟ فقال: من يكون هو إلا عمر رضي الله عنه؟ !
امام شعبی روایت کرتے ہیں:
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی کی ملاقات ایک جن سے ہوئی۔ انہوں نے اس سے کشتی لڑی اور انسان نے اسے گرا دیا۔ جن نے کہا: دوبارہ میرا سامنا کرو۔ تو صحابی نے دوبارہ اسے پچھاڑ دیا۔ انسان نے جن سے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم چھوٹے اور کمزور سے لگتے ہو، جیسے تمہارے بازو کتے کے بازو جیسے ہوں؛ کیا تم سب جنات ایسے ہی ہو یا تم خاص طور پر ایسے ہو؟
جن نے جواب دیا: نہیں، قسم ہے اللہ کی، میں اپنے قبیلے میں مضبوط ہوں، لیکن دوبارہ میرا سامنا کرو۔ اگر تم نے مجھے تیسری بار پچھاڑ دیا تو میں تمہیں ایک ایسی بات سکھاؤں گا جو تمہارے لیے نفع مند ہوگی۔ انسان نے پھر اس سے کشتی کی اور اسے دوبارہ پچھاڑ دیا۔
تب جن نے کہا: کیا تم آیت الکرسی پڑھتے ہو؟ صحابی نے جواب دیا: ہاں، میں پڑھتا ہوں۔ جن نے کہا: تم جس گھر میں آیت الکرسی پڑھو گے، وہاں سے شیطان نکل جائے گا اور صبح تک دوبارہ داخل نہیں ہو سکے گا۔
یہ سن کر ایک شخص نے پوچھا: اے ابو عبد الرحمن! وہ صحابی کون تھے؟ کیا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ اور کون ہو سکتے ہیں، سوائے عمر رضی اللہ عنہ کے!
[المجالسة وجواهر العلم، 2475، وسندہ صحیح]
تحریر: اسد الطحاوی
