(تم کو ضرور مرنے کے بعد زندہ کیا جائے گا) جس دن لرزائے گی لرزانے والی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن لرزائے گی لرزانے والی۔ پھر اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔ اس دن بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔ دہشت سے ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ وہ کہتے ہیں : کیا ہم ضرور مرنے کے بعد زن دگی کی طرف لوٹائے جائیں گے ؟۔ کیا جب ہم گلی ہوئی ہڈیاں ہوجائیں گے ؟۔ وہ کہتے ہیں : پھر تو یہ بڑے خسارے کی واپسی ہوگی۔ وہ ضرور صرف ایک جھڑکی ہوگی۔ پھر وہ اچانک ( حشر کے) کھلے میدان میں ہوں گے۔ ( النزعت : 14۔ 6)
قیامت کے احوال اور ” راجفۃ “ کا معنی
اس آیت میں فرمایا ہے :” یوم ترجف الراجفۃ “ اور یوم پر زبر اس لیے ہے کہ وہ فعل محذوف کا مفعول ہے اور وہ فعل ہے، ” لتبعثن “ یعنی تم ضرور زندہ کر کے اٹھائے جائو گے، جس دن لرزائے گی لرزانے والی۔
اس پر یہ اعتراض ہے کہ لرزائے گی لرزانے والی، اس سے پہلا صور پھونکنا مراد ہے حالانکہ لوگوں کو دوسرے صور کے پھونکتے کے وقت زندہ کیا جائے گا، اس کا جواب یہ ہے کہ النزعت : ٧ میں دوسرے صور کے پھونکنے کا ذکر ہے