Site icon اردو محفل

فَاَرٰٮهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 20

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَرٰٮهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ۞

ترجمہ:

پھر انہوں نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔

النزعت : 20 میں فرمایا : پھر انہوں نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔

اس آیت میں جس بہت بڑی نشانی کا ذکر فرمایا ہے، اس کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں :

بہت بڑی نشانی کے متعلق متعدد اقوال

(١) اس سے مراد یدبیضاء ہے، قرآن مجید میں ہے :

وادخل یدک فی جیبک تخرج بیضا من غیر سوئ (النمل : ٢١ )

آپ اپنا ہاتھ اپنے گریبان ( بغل) میں ڈالیں آپ کا ہاتھ سفید چمک دار بغیر کسی عیب کے نکلے گا۔

وَاضْمُمْ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓئٍ اٰ یَۃً اُخْرٰی۔ لِنُرِیَکَ مِنْ اٰیٰـتِنَا الْکُبْرٰی۔ (طہٰ : ٣٢۔ ٢٢ )

اور آپ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبایئے وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا، یہ دوسری نشانی ہے۔ تاکہ ہم آپ کو اپنی بعض بہت بڑی نشانیاں دکھائیں۔

(٢) اس سے مراد عصا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ جب عصا کو زمین پر ڈالتے تو وہ اژدھا بن جاتا تھا، اس کے جزاء اور اس کا جسم بڑھ جاتا تھا اور اس سے حضرت موسیٰ کو بہت بڑی قدرت اور بہت شدید طاقت حاصل ہوتی تھی، اور وہ اژدھا بہت ساری چیزوں کو نگل جاتا تھا اور وہ چیزیں فنا ہوجاتی تھیں اور بڑی بڑی چیزوں کے اجزاء فنا ہوجاتے تھے اور چیزوں کے رنگ اور انکی صورتیں زائل ہوجاتی تھیں اور ان چیزوں میں سے ہر چیز ایک مستقل معجزہ ہے لہٰذا عصا بہت بڑی نشانی ہوا۔

(٣) بہت بڑی نشانی سے مراد یدبیضاء اور عصا کا مجموعہ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 20

Exit mobile version