النزعت : 24۔ 23 میں فرمایا : اس نے لوگوں کو جمع کرکے یہ اعلان کیا۔ پس کہا : میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ فرعون نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو بلواکر جمع کیا۔ ( الشعرائ : ٣٥) پھر جس مقام پر تمام جادوگر جمع ہوئے تھے، اس میدان میں اس نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔
سب سے بڑا رب ہوں، کا معنی
اس نے جو یہ کہا تھا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں، اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تمام آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں اور سمندروں اور دریائوں کو میں نے پیدا کیا ہے کیونکہ یہ دعویٰ تو ایک مجنون کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ فرعون وہریہ تھا، وہ اس جہان کا کوئی صائع نہیں مانتا تھا، نہ نبی اور رسول کو مانتا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ میں تمہارا سب سے بڑا مربی اور محسن ہوں، لہٰذا تم میرا شکر ادا کرو اور میر تعظیم کرو اور مجھے سجدہ کرو اور میرے احکام مانو اور میری اطاعت کرو، وہ قیامت، حشر و نشر اور جزاء اور سزا کا بھی منکر تھا۔