آپ اس سے کہیں کہ گناہوں سے پاک کرنے کے متعلق تیری کیا رائے ہے ؟
النزعت : 18 میں فرمایا : آپ اس سے کہیں کہ گناہوں سے پاک ہونے کے متعلق تیری کیا رائے ہے ؟۔
اس آیت میں ” تزکی “ کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’ زکی “ ہے، اس کا معنی ہے : عیوب سے بری ہونا اور قبائح سے پاک ہونا، قرآن مجید میں ہے :
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا۔ (الشمس : ٩) جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا)
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو تلقین کی تھی کہ فرعون کے ساتھ نرمی سے بات کریں، فرمایا :
فَقُوْلَا لَـہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا (طہٰ : ٤٤) پس تم دونوں اس سے نرمی سے بات کرنا۔
اس میں یہ دلیل ہے کہ جب کسی کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دینی ہو تو اس کے ساتھ سختی نہیں کرنی چاہیے اور نرمی سے بات کرنی چاہیے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا :
اگر آپ بد مزاج اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو مبلغین لوگوں کے ساتھ سختی کے ساتھ کلام کرتے ہیں اور بہت زیادہ تعصب سے کام لیتے ہیں اور تبلیغ کرنے میں انبیاء (علیہم السلام) کے طریقہ پر نہیں ہیں۔