اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ؟۔ جب ان کے رب نے وادی ٔ طویٰ میں انہیں ندا فرمائی۔ کہ آپ فرعون کے پاس جائیں بیشک اس نے سرکشی کی ہے۔ آپ اس سے کہیں کہ گناہوں سے پاک ہونے کے متعلق تیری کیا رائے ہے ؟۔ اور میں تجھے تیرے رب کی طرف رہ نمائی کروں سو تو ڈرے۔ پھر انہوں نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی انہوں نے تکذب کی اور نافرمانی کی۔ پھر اس نے پیٹھ پھیری اور ان کے خلاف کارروائی کی۔ اس نے لوگوں کو جمع کر کے یہ اعلان کیا۔ پس کہا : میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ پس اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ بیشک اس میں ڈرنے والے کے لیے ضرور عبرت ہے۔ ( النزعت : ۲۶۔ ۱۵ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے ساتھ معرکہ کا قصہ اور اس سے کفار مکہ کو ڈرانا
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ کفار مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے انکار پر بہت اصرار کر رہے ہیں حتیٰ کہ وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں :” تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۔ “ ( النازعات : ۱۲) پھر تو آخرت کی طرف لوٹنا بہت خسارہ والا ہوگا اور ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کا یہ مسلسل انکار بہت شاق گزرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا تاکہ آپ کو تسلی دی جائے کہ فرعون کو دعوت دینے میں موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی مشقت اٹھائی تھی اور فرعون بھی آخروقت تک اپنے انکار پر جما رہا تھا، سو آپ پریشان نہ ہوں اور غم نہ کریں، انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ کی توحید کی طرف دعوت دینے میں ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ فرعون کفار مکہ سے زیادہ قول اور جابرحکم ران تھا، اس کے پاس بڑا لشکر تھا اور اس کی بہت بڑی سلطنت تھی اور جب اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو رد کردیا اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی تو اس کا جاہ و چشم، اس کی بڑی سلطنت اور اس کا لشکر اس کے کچھ کام نہ آیا، اللہ تعالیٰ نے فرعون کو اس کے لشکر سمیت سمندر میں غرق کردیا اور اس کو دنیا اور آخرت میں عبرت کا نشان بنادیا اور فرعون کی قوت اور حشمت کے مقابلہ میں یہ کفار مکہ کیا چیز ہیں، اگر یہ بھی آخر وقت تک اپنے انکار پر جمے رہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی دنیا اور آخرت میں عبرت کا نشان بنا دے گا۔
النزعت : 16۔ 15 میں فرمایا : کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ؟۔ جب ان کے رب نے وادیٔ طویٰ میں انہیں ندا فرمائی۔