Site icon اردو محفل

ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ‌ ؕ بَنٰٮهَا سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 27

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ‌ ؕ بَنٰٮهَا ۞

ترجمہ:

آیا تم کو پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کو ؟ جس کو اللہ نے بنادیا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیا تم کو پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کو ؟ جس کو اللہ نے بنادیا ہے۔ اللہ نے اس کی چھت بلند کی پھر اس کو ہم وار بنایا۔ اس کی رات تاریک کردی اور اس کا دن روشن کردیا۔ اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔ اس زمین سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا۔ اور پہاڑوں کو اس زمین میں نصب کردیا۔ تم کو اور تمہارے چوپایوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے (النزعت : ٣٣۔ ٧٣)

النزعت : ۲۸۔ ۲۷ میں فرمایا : آیا تم کو پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کو ؟ جس کو اللہ نے بنادیا ہے۔ اللہ نے اس کی چھت بلند کی پھر اس کو ہم وار بنادیا۔

آسمانوں کی تخلیق سے حیات بعد الموت پر استدلال

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ختم کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کلام کو پھر حیات بعد الموت کے منکرین کی طرف راجع فرمایا اور یہ استدلال کیا کہ اے منکر و ! تمہارے مقابلہ میں آسمان بہت بڑی مخلوق ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے اتنے عظیم آسمان طبق در طبق بنا دیئے تو تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کب مشکل ہے، جیسا کہ ان آیات میں فرمایا ہے :

اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ ط (یٰسین : ١٨)

کیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا ہے وہ اس پر قادر نہیں کہ ان کی مثل پیدا فرمائے۔

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ (المؤمن : ٧٥)

آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے سے ضرور بہت بڑا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ حیات بعد الموت کے منکرین اس بات کو مانتے ہیں کہ آسمانوں اور زمینوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔

وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللہ ُ ط (لقمان : ٥٢) اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور بہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔

اور ہر صاحب عقل اس بات کو مانے گا کہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے کی بہ نسبت آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنا بہت مشکل اور دشوار ہے اور جب اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرما چکا ہے تو اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کب مشکل اور دشوار ہے تو پھر انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے کا کیوں انکار کرتے ہو !

آسمان بہت عظیم مخلوق ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے احکام پر عمل کرنے جو امانت سونپی ہے، اس نے اس امانت میں خیانت نہیں کی اور اس میں خیانت کرنے سے ڈرا اور آسمان کے مقابلہ میں انسان اس قدر ضعیف اور ناتواں ہے، وہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کے احکام میں خیانت کرنے سے نہیں ڈرتا اور اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کے عذاب سے ڈرائے اور لوگ اپنی سرکشی کو ترک کر کے اس دعوت پر ایمان لے آئیں جس کو اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انکے سامنے پیش فرما رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا، پھر اس کو بنانے کی کیفیت بیان فرمائی کہ اس نے اسکی چھت کو بلند کیا، پھر اس کو وہم وار کیا، ہم وار بنانے سے مراد یہ یہ کہ آسمان میں شکنیں اور سلوٹیں نہیں ہیں، وہ کہیں سے اونچا نیچا نہیں ہے، جیسے اس نے ارشاد فرمایا :

مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ط (الملک : ٣) تم رحمن کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں دیکھو گے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 27

Exit mobile version