النزعت : 36۔ 35 میں فرمایا : اس دن انسان اپنی کوشش یاد کرے گا۔ اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ ظاہر کردی جائے گی۔
اس آیت میں کوشش سے مراد انسان کے کیے ہوئے اعمال ہیں، قیامت کے دن اس کے ہاتھ میں اس کا صحیفہ اعمال دے دیا جائے گا اور جن کیے ہوئے کاموں کو وہ بھول چکا تھا اس کو وہ سب یاد آجائیں گے۔ قرآن مجید میں ہے :
یََوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہ ُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْاط اَحْصٰہُ اللہ ُ وَنَسُوْہُط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شّیْئٍ شَہِیْدٌ۔ (المجادلہ : ٦)
جس دن اللہ ان سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا اور ان کو ان کے کیے ہوئے کاموں میں خبر دے گا، جن اعمال کو اللہ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ بھول چکے تھے، اور اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔