اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( رسول) چیں بہ جبیں ہوئے اور انہوں نے منہ پھیرا۔ کہ ان کے پاس ایک نابینا۔ آپ کو کیا پتہ شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا۔ یا نصیحت قبول کرتا تو اس کو نصیحت نفع دیتی۔ اور جس نے بےپرواہی کی تو آپ اس کے درپے ہیں۔ اور اگر وہ پاکیزگی حاصل نہ کرے تو آپ کو کوئی ضرر نہیں ہوگا۔ اور رہا وہ جو آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا ہے۔ اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔ تو آپ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ (عبس : ٠١۔ ١)
” عبس “ کا معنی اور اس آیت کا شان ِ نزول
عبس : ٢۔ ١ میں فرمایا : ( رسول) چیں بہ جبیں ہوئے اور انہوں نے منہ پھیرا۔ کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔
اس آیت میں ” عبس “ کا لفظ ہے، امام راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ اس کے معنی میں لکھتے ہیں :
دل کی تنگی سے ماتھے پر بل آجانے کا نام ” عبوس “ ہے، سو اس کا معنی ہے : اس نے تیوری چڑھائی، وہ ترس رو ہوا، وہ چیں بہ جبیں ہوا۔ ( المفردات ج ٢ ص ٦١٤، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ٨١٤١ ھ)