عبس، ۱۶۔ ۱۵ میں فرمایا : اور ان کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے۔ جو عزت والے نیک ہیں۔
آیت میں ” بررۃ “ کا لفظ ہے، یہ ” بار “ کی جمع ہے، ” بار “ کا معنی ہے : نیکی کرنے والا، جیسے ” کافر “ کی جمع ” کفرۃ “ اور ” فاجر “ کی جمع ” فجرہ “ ہے۔
صحائف کی دوسری تفسیر یہ ہے : صحائف انبیاء، قرآن مجید میں ہے :
اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔ (الاعلیٰ : ٨١) بیشک یہ نصیحت انبیاء متقدمین کے صحیفوں میں ہے۔
اور ” سفرۃ کرام “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید کے قاری ہیں۔ قفال نے بیان کیا کہ اس کا معنی ہے : ان صحائف کو پاکیزہ فرشتوں کے سوا اور کوئی نہیں چھوتا۔
سفیر رسول کو، اور قوم کے درمیان صلح کرانے والے کو کہتے ہیں، حدیث صحیح میں ہے :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص قرآن کو پڑھتا ہے اور وہ حافظ ہو، وہ ” السفرۃ الکرام البررۃ “ ( نیک پاکیزہ فرشتوں) کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی طرح وہ شخص ہے جو قرآن مجید کی حفاظت کرتا ہے اور اس کو حفظ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٣٩٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٩٧)
اس آیت میں ” کرام “ کا لفظ ہے یعنی وہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم ہیں، حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے : وہ اپنے آپ کو گناہوں سے دور رکھتے ہیں، الضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے کرام کی تفسیر میں یہ نقل کیا ہے کہ فرشتے اس بات سے مکرم ہیں کہ وہ ابن آدم کے ساتھ اس وقت ہوں جب وہ اپنی بیوی سے خلوت کرتا ہے، یا بیت الخلاء میں قصاء حاجت کرتا ہے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٩١ ص ٦٨١)