اونٹ کا ایک ایسا واقعہ جس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں اور امت کے لئے چار دعائیں کیں، اسکی تین دعاوں پر حضور نے آمین کہا اور چوتھی پر آبدیدہ ہوگئے۔۔۔۔کیوں؟
#کونسی دعا تھی؟
امام حافظ زکی الدین المنذری علیہ الرحمہ حدیث شریف کی کتاب “الترغیب والترھیب” میں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں:
عَنْ تَمِيْمِ الدَّارِيِّ رضي الله عنه قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذْ أَقْبَلَ بَعِيْرٌ يَعْدُوْ حَتّٰی وَقَفَ عَلٰی هَامَةِ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم . فَقَالَ: أَيُّهَاالْبَعِيْرُ، اسْکُنْ. فَإِنْ تَکُ صَادِقًا فَلَکَ صِدْقُکَ، وَإِنْ تَکُ کَاذِبًا فَعَلَيْکَ کَذِبُکَ مَعَ أَنَّ اللهَ تَعَالٰی قَدْ أَمَّنَ عَائِذَنَا وَلَيْسَ بِخَائِبٍ لَائِذُنَ. فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا يَقُوْلُ هٰذَا الْبَعِيْرُ؟ فَقَالَ: هٰذَا بَعِيْرٌ قَدْ هَمَّ أَهْلُه بِنَحْرِه وَأَکْلِ لَحْمِه فَهَرَبَ مِنْهُمْ وَاسْتَغَاثَ بِنَبِيِّکُمْ صلی الله عليه وآله وسلم . فَبَيْنَا نَحْنُ کَذَالِکَ إِذْ أَقْبَلَ أَصْحَابُه يَتَعَادَوْنَ. فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِمُ الْبَعِيْرُ عَادَ إِلٰی هَامَةِ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم . فَـلَاذَ بِهَ “فَقَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، هٰذَا بَعِيْرُنَا هَرَبَ مُنْذُ ثَـلَاثَةِ أَيَامٍ. فَلَمْ نَلْقَهُ إِلَّا بَيْنَ يَدَيْکَ. فَقَالَ صلی الله عليه وآله وسلم : أَمَّا إِنَّه يَشْکُوْ إِلَيَّ، فَبِئْسَتِ الشِّکَايَةُ. فَقَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا يَقُوْلُ؟ قَالَ: يَقُوْلُ إِنَّه رُبِّيَ فِي أَمْنِکُمْ أَحْوَالًا، وَکُنْتُمْ تَحْمِلُوْنَ عَلَيْهِ فِي الصَّيْفِ إِلٰی مَوْضِعِ الْکَلَاءِ. فَإِذَا کَانَ الشِّتَاءُ رَحَلْتُمْ إِلٰی مَوْضِعِ الدِّفَاءِ. فَلَمَّا کَبِرَ اسْتَفْحَلْتُمُوْهُ، فَرَزَقَکُمُ اللهُ مِنْهُ إِبِلًا سَائِمَةً. فَلَمَّا أَدْرَکَتْه هٰذِهِ السَّنَةُ الْخَصْبَةُ هَمَمْتُمْ بِنَحْرِه، وَأَکْلِ لَحْمِه . فَقَالُوْا: قَدْ وَاللهِ، کَانَ ذَالِکَ، يَا رَسُوْلَ اللهِ. فَقَالَ عليه الصلاة والسلام: مَا هٰذَا جَزَاءُ الْمَمْلُوْکِ الصَّالِحِ مِنْ مَوَالِيْهِ؟ فَقَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، فَإِنَّا لَا نَبِيْعُهُ وَلَا نَنْحَرُهُ “فَقَالَ عليه الصلاة والسلام: کَذَبْتُمْ. قَدِ اسْتَغَاثَ بِکُمْ فَلَمْ تُغِيْثُوْهُ، وَأَنَا أَوْلٰی بِالرَّحْمَةِ مِنْکُمْ. فَإِنَّ اللهَ نَزَعَ الرَّحْمَةَ مِنْ قُلُوْبِ الْمُنَافِقِيْنَ وَأَسْکَنَهَا فِي قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ. فَاشْتَرَاهُ عليه الصلاة والسلام مِنْهُمْ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَقَالَ: يٰا أَيُّهَا الْبَعِيْرُ، انْطَلِقْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالٰی ” فَرَغٰی عَلٰی هَامَةِ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم . فَقَالَ عليه الصلاة والسلام: آمِيْنَ. ثُمَّ دَعَا فَقَالَ: آمِيْنَ. ثُمَّ دَعَا فَقَالَ: آمِيْنَ. ثُمَّ دَعَا الرَّابِعَةَ فَبَکَی عليه الصلاة والسلام. فَقُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا يَقُوْلُ هٰذَا الْبَعِيْرُ؟ قَالَ: قَالَ: جَزَاکَ اللهُ، أَيُّهَا النَّبِيُّ، عَنِ الإِسْلَامِ وَالْقُرْآنِ خَيْرً. فَقُلْتُ: آمِيْنَ. ثُمَّ قَالَ: سَکَّنَ اللهُ رُعْبَ أُمَّتِکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَمَا سَکَّنْتَ رُعْبِي. فَقُلْتُ: آمِيْنَ. ثُمَّ قَالَ: حَقَنَ اللهُ دِمَاءَ أُمَّتِکَ مِنْ أَعْدَائِهَا کَمَا حَقَنْتَ دَمِي. فَقُلْتُ: آمِيْنَ. ثُمَّ قَالَ: لَا جَعَلَ اللهُ بَأْسَهَا بَيْنَهَا، فَبَکَيْتُ. فَإِنَّ هٰذِهِ الْخِصَالَ سَأَلْتُ رَبِّي فَأَعْطَانِيْهَا وَمَنَعَنِي هٰذِه، وَأَخْبََرَنِي جِبْرِيْلُ عَنِ اللهِ تَعَالٰی أَنَّ فَنَاءَ أُمَّتِي بِالسَّيْفِ. جَرَی الْقَلَمُ بِمَا هُوَ کَائِنٌ۔
(الترغيب والترهيب، جلد3 صفحہ144)
حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر تھے کہ اچانک ایك اونٹ دوڑتا آیا یہاں تك کہ حضور کے سر مبارك کے قریب آکر کھڑا ہوا(اور گویا کچھ عرض کیا)
حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اے اونٹ !ٹھہراگر تو سچا ہے تو تیرے سچ کا پھل تیرے لیے ہے اورجھوٹا ہے تو تیرے جھوٹ کا وبال تجھ پر ہے،
(اور اے اونٹ سنو) بےشک جو ہماری پناہ میں آئے الله تعالٰی بھی اسے امان عطا فرماتا ہے اور جو ہماری بارگاہ میں التجا لائے وہ نامراد نہیں ہوتا۔
صحابہ نے عرض کی:یارسول الله !یہ اونٹ کیا عرض کرتاہے ؟ فرمایا:اس کے مالکوں نے اسے ذبح کر کے کھالینا چاہا تھا یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا اور تمہارے نبی کے حضور فریاد لایا۔
ہم اسی طرح بیٹھے تھے کہ اتنے میں اس کا مالك یا (ایک قول ہے کہ)اس کے مالك دوڑتے آئے،
اونٹ نے جب انہیں دیکھا پھر حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے! سرانور کے پاس آگیا اور حضور کی پناہ پکڑی،
(قربان اس پناہ کے!)
اس کے مالکوں نے عرض کی:
یا رسول الله !ہمارا اونٹ تین دن سے بھاگا ہوا ہے آج حضور کے پاس ملا ہے۔حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:سنو اس نے میرےحضور شکایت کی ہے اور وہ بہت ہی بری شکایت ہے۔
وہ بولے:یا رسول الله !یہ کیا کہتاہے ؟فرمایا:یہ کہتا ہے کہ وہ برسوں تمہارے پاس پَلا، گرمی میں اس پر تم سامان لادکر سبز ہریالی جگہ جاتے اور سردی میں گرم مقام تك کوچ کرتے،
پھر جب اس کی عمر زیادہ ہوگئی تو تم نے اسے اپنی اونٹنیوں میں افزائش نسل کے لئے چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے کئی صحت مند اونٹ عطا کئے۔ اب جبکہ یہ اس خستہ حالی کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو تم نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھالینے کا منصوبہ بنالیا ہے۔
وہ بولے: یا رسول الله !خداکی قسم ! بالکل یہی بات ہے۔
حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
اچھے خدمت گزار کی اس کے مالکوں کی طرف سے کیا یہی جزا ہوتی ہے؟
وہ بولے:یا رسول الله ! ہم اسے نہ بیچیں گے نہ ذبح کریں گے۔فرمایا:
تم جھوٹ کہتے ہو۔ اس نے پہلے تم سے فریاد کی تھی مگر تم نے اس کی داد رسی نہیں کی اور میں تم سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دلوں سے رحمت نکال لی ہے اور اسے مومنین کے دلوں میں رکھ دیا ہے‘
پھر حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے وہ اونٹ ان سے سو درھم میں خرید لیا اور اس سے ارشاد فرمایا:اے اونٹ !
جا تو الله عزوجل کے لئے آزاد ہے۔یہ سن کر اس نے سر اقدس پر اپنی بولی میں کچھ آواز کی۔
حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے آمین کہی۔
اس نے دوبارہ آواز کی حضور نے پھر آمین کہی۔
اس نے تیسری بارعرض کی حضور نے پھر آمین کہی اس نے چوتھی بار کچھ آواز کی اس پر حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے آبدیدہ ہوگئے۔
صحابہ نے عرض کی:یا رسول الله !یہ کیا کہتا ہے ؟فرمایا:اس نے کہا اے اللہ کے نبی
الله پاک آپکو اسلام و قرآن کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے میں نے کہا آمین،
پھر اس نے کہا الله تعالٰی قیامت کے دن حضور کی امت سے خوف دور کرے جس طرح آپ نے میر خوف دور فرمایا میں نے کہا آمین۔
پھر اس نے کہا الله پاک حضور کی امت کے خون ان کے دشمنوں کے ہاتھوں سے محفوظ رکھے(یعنی پوری امت کے خون کو)جیسا آپ نے میرا خون بچایا،میں نے کہا آمین
پھر اس نے چوتھی بار کہا:
اللہ تعالیٰ ان کے درمیان جنگ وجدال پیدا نہ ہونے دے ۔
یہ سن کر مجھے رونا آگیا کیونکہ یہی دعائیں میں نے بھی اپنے ربّ سے مانگی تھیں تو اس نے پہلی تین تو قبول فرمالیں لیکن اس آخری دعا سے منع فرما دیااور مجھے جبرائیل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے الله عزوجل کی طرف سے خبر دی کہ میری یہ امت آپس میں تلوار زنی(جنگ و جدال ) سے فنا ہوگی۔ جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے(لوح محفوظ میں)لکھ چکا ہے…
یہ وہ دعا تھی جس پر آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور آج یہی ہورہا ہے کہ امت آپس میں جنگ و جدال میں ہے😭
#نکتہ:اس حدیث شریف کو نقل فرماتے ہوئے سیدی اعلحضرت فرماتے ہیں کہ اس میں جو پیاری پیاری اسناد ہے کہ حضور نے فرمایا:
ان اللہ تعالیٰ قد امٌن عائذنا ولیس بخائب لائذنا
جو ہماری پناہ لے اللہ عزوجل اسے امان دیتا ہے اور جو ہم سے التجا کرے نامراد نہیں رہتا۔
صدقے جاؤں ♥️
(فتاوی رضویہ جلد30 صفحہ353)
ذوالقرنین رضوی
