Site icon اردو محفل

بھکاری کا روپ دھار کر حدیث شریف کا علم حاصل کرنا

پانچ ھزار کلو میٹر سے زیادہ  پیدل سفر
بھکاری کا روپ دھار کر حدیث شریف کا علم حاصل کرنا

امام بقی بن مخلد نے اندلس(ہسپانیہ اسپین جس کا فاصلہ بغداد سے پانچ ھزار کلو میٹر سے زائد ہے) سے بغداد کا سفر پیدل چل کر کیا اورمقصد صرف  اتنا تھا کہ وہاں جاکر امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے حدیث حاصل کروں۔
امام ذھبی نے انکے پوتے کی کتاب سے روایت کرکے لکھا ہے کہ:
رحل أبي من مكة إلى بغداد ، وكان رجلا بغيته ملاقاة أحمد بن حنبل . قال : فلما قربت بلغتني المحنة ، وأنه ممنوع ، فاغتممت غما شديدا ، فاحتللت بغداد ، واكتريت بيتا في فندق ، ثم أتيت الجامع وأنا أريد أن أجلس إلى الناس ، فدفعت إلى حلقة نبيلة ، فإذا برجل يتكلم في  الرجال ، فقيل لي : هذا يحيى بن معين . ففرجت لى فرجة ، فقمت إليه ، فقلت : يا أبا زكريا : -رحمك الله- رجل غريب ناء عن وطنه ، يحب السؤال ، فلا تستجفني ، فقال : قل . فسألت عن بعض من لقيته ، فبعضا زكى ، وبعضا جرح ، فسألته عن هشام بن عمار ، فقال لي : أبو الوليد ، صاحب صلاة دمشق ، ثقة ، وفوق الثقة ، لو كان تحت ردائه كبر ، أو متقلدا كبرا ، ما ضره شيئا لخيره وفضله ، فصاح أصحاب الحلقة : يكفيك -رحمك الله- غيرك له سؤال .
فقلت -وأنا واقف على قدم : اكشف عن رجل واحد : أحمد بن حنبل ، فنظر إلي كالمتعجب ، فقال لي : ومثلنا ، نحن نكشف عن أحمد ؟ ! ذاك إمام المسلمين ، وخيرهم وفاضلهم . فخرجت أستدل على منزل أحمد بن حنبل ، فدللت عليه ، فقرعت بابه ، فخرج إلي .
فقلت : يا أبا عبد الله : رجل غريب ، نائي الدار ، هذا أول دخولي هذا البلد ، وأنا طالب حديث ومقيد سنة ، ولم تكن رحلتي إلا إليك ، فقال : ادخل الأصطوان ولا يقع عليك عين . فدخلت ، فقال لي : وأين موضعك ؟ قلت : المغرب الأقصى . فقال : إفريقية ؟ قلت : أبعد من إفريقية ، أجوز من بلدي البحر إلى إفريقية ، بلدي الأندلس ، قال : إن موضعك لبعيد ، وما كان شيء أحب إلي من أن أحسن عون مثلك ، غير أني ممتحن بما لعله قد بلغك .
فقلت : بلى ، قد بلغني ، وهذا أول دخولي ، وأنا مجهول العين عندكم ، فإن أذنت لي أن آتي كل يوم في زي السؤال ، فأقول عند الباب ما يقوله السؤال ، فتخرج إلى هذا الموضع ، فلو لم تحدثني كل يوم إلا بحديث واحد ، لكان لي فيه كفاية . فقال لي : نعم ، على شرط أن لا تظهر في الخلق ، ولا عند المحدثين .
فقلت : لك شرطك ، فكنت آخذ عصا بيدي ، وألف رأسي بخرقة مدنسة ، وآتي بابه فأصيح : الأجر -رحمك الله- والسؤال هناك كذلك ، فيخرج إلي ، ويغلق۔۔۔۔
(موسسہ رسالہ بیروت جلد13صفحہ293)
#ترجمہ:
امام ابن مخلد  اندلس سے چل کرجب بغداد پہنچے تو معلوم ہوا کہ امام احمد بن حنبل سے ملنے اور ان سے حدیث سننے کی( سرکاری طور پر) پابندی ہے-
امام بقی فرماتے ہیں کہ جب مجھے یہ معلوم ہوا تو مجھ پر غم و الم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے-
میں وہیں رک گیا اور سامان ایک سرائے میں رکھ کر بغداد کی عظیم الشان جامع مسجد میں گیا تاکہ لوگوں کے پاس جا کر یہ دیکھوں کہ وہ آپس میں امام احمد بن حنبل کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں-
اتفاق سے وہاں بہت ہی عمدہ اور مہذب حلقہ لگا ہوا تھا اور ایک شخص راویانِ حدیث کے حالات بیان کر رہا تھا وہ بعض کو ضعیف اور بعض کو قوی قرار دیتا-
میں نے ایک آدمی سے پوچھا یہ کون ہیں؟
اس نے کہا یہ یحیٰ بن معین ہیں–مجھے ان کے قریب خالی جگہ نظر آئی میں وہاں جاکر کھڑا ہوگیا اور عرض کی کہ اے شیخ میں ایک پردیسی آدمی ہوں جس کا وطن یہاں سے بہت دور ہے میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں آپ میری خستہ حالی کی بنا پر مجھے جواب سے محروم نہ کیجئے گا-
شیخ نے فرمایا پوچھو کیا پوچھنا ہے-میں نے چند ایسے محدثین کے بارے میں دریافت کیا جن سے میری ملاقات ہو چکی تھی انہوں نے بعض کو صحیح اور بعض کو مجروح بتایا آخر میں ہشام بن عمار کے متعلق  پوچھا کیونکہ ان کے پاس میری حاضری بار بار ہوئی ہے انہوں نے ان کا نام سن کر فرمایا کہ ابو الولید ہشام بن عمار دمشق کے رہنے والے بہت بڑے نمازی، ثقہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں-
میرا اتنا پوچھنا تھاکہ حلقہ والے چیخ پڑے اور کہا کہ جناب بس کیجئے دوسروں کو موقع دیں میں نے کھڑے کھڑے عرض کیا کہ میں نے آپ سے امام احمد بن حنبل کے بارے میں پوچھنا ہے یہ سن کر امام یحیٰ بن معین نے بڑی حیرت سے  مجھے دیکھا اور کہا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم امام احمد بن حنبل کے بارے تنقید کریں گے وہ مسلمانوں کے امام، ان کے مسلمہ عالم اور صاحب فضل و کمال نیز ان میں سے سب سے بہتر شخص ہیں-
اس کے بعد میں وہاں سے چلا آیا اور پوچھتے پوچھتے امام احمد بن حنبل کےمکان پر پہنچ گیا میں نے دروازہ کھٹکھٹایا آپ باہر تشریف لائے میں نے عرض کی کہ اے امام صاحب میں ایک پردیسی آدمی ہوں  اس شہر میں پہلی بار آیا ہوں طالب حدیث ہوں اور یہ سفر محض آپ کی خدمت  میں حاضری کی وجہ سے کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ اندر آجاؤ کہیں تمہیں کوئی دیکھ نہ لے-جب میں اندر آگیا تو انہوں نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟
میں نے عرض کی کہ مغرب بعید میں انہوں نے کہا کہ کیا افریقہ میں-میں نے عرض کہ اس سے بھی دور ہمیں اپنے ملک سے افریقہ جانے کے لئے سمندر پار کرنا پڑتا ہے-میں اندلس کا رہنے والا ہوں انہوں نے کہا
“واقعی تمہارا وطن بہت دور ہے  تم جیسے  شخص کے مقصد کو پورا کرنا اور اس پر ہر ممکن تعاون کرنا مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے”
لیکن کیا کروں اس وقت آزمائش میں گرفتا ر ہوں شاید تمہیں اس کے بارے معلوم ہوگیا ہوگا- میں نے عرض کی اے ابو عبد اللہ میں پہلی بار اس شہر میں آیا ہوں مجھے یہاں کوئی نہیں جانتا اگر آپ اجازت دیں تو میں روزانہ آپ کے پاس فقیرانہ  بھیس میں آجایا کروں اور دروازے پر وہی صدا لگایا کروں جیسی فقیر لوگ لگاتے ہیں تو پھر آپ باہر تشریف لانا-اگر آپ نے روزانہ ایک حدیث بھی سنادی تو وہ میرے لئے کافی ہے آپ نے فرمایا ٹھیک ہے لیکن شرط یہ ہے کہ تم لوگوں کے پاس آمد و رفت نہیں رکھو گے اور نہ ہی محدثین کے حلقوں میں جاؤ گے-میں نے عرض کی کہ آپ کی شرط منظور ہے-الغرض میں روزانہ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیتا سر پر بھیکاریوں کا سا کپڑا باندھتا اور کاغذ دوات آستین میں رکھ کر آپ کے دروازے پر جاکر صدا لگاتا  آپ تشریف لاتے اور جب میں اندر ہوجاتا تو دروازہ بند کردیتے۔۔۔(ترجمہcopied)
(سیر اعلام النبلاء جلد 13 صفحہ 293/94)
(یوں امام احمد انسے کبھی دو کبھی تین یا اس سے زیادہ حدیثیں بیان فرماتے-یہاں تک امام ابن مخلد کے  پاس تقریباً 300  حدیثیں جمع ہوگئیں)
اللہ اکبر کبیرا
کیا طلب تھی
کیا شوق تھا
آہ آج ہم😭
✍️ ذوالقرنین قادری

Exit mobile version