عبس : ۳۲۔ ۳۱ میں فرمایا : اور میوے اور ( مویشوں کا) چارا۔ تمہیں اور تمہارے مویشوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے۔
اس آیت میں ” فاکھۃ “ کا عطف ” عنب “ پر ہے، اس سے بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ انگور اور کھجور اور زیتون ” فاکھۃ “ یعنی میوئوں میں داخل نہیں ہیں کیونکہ عطف تغایر کو چاہتا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ ” فاکھۃ “ سے مراد خشک پھل ہوں جیسے پستہ، بادام اور اخروٹ وغیرہ۔
” ابا “ کا معنی ہے : چراگاہ اور چار انسان کے جانوروں کی غذا ہے۔
یہ آیات اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلائل ہیں کیونکہ ان چیزوں کی پیدائش طرز واحد پر ہوتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ان چیزوں کا پیدا کرنے والا واحد ہے، نیز جس نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کر دے۔
اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کرکے انسان پر انعام اور احسان کیا ہے تو انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کو خالق اور واحدمستحق عبادت مانے اور اس کے سامنے سرکشی نہ کرے اور تکبر اور کفر نہ کرے اور اس کی اطاعت اور عبادت کرے۔