اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جب کانوں کو بہرا کرنے والی ( قیامت) آجائے گی۔ اس دن ہر شخص اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور بیٹوں سے۔ اس دن ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی جو اس کو ( دوسروں سے) بےپرواہ کر دے گی۔ اس دن کئی چہرے چمکتے ہوئے ہوں گے۔ مسکراتے ہوئے ہشاش بشاش۔ اور اس دن کئی چہرے غبار آلود ہوں گے۔ ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ وہی لوگ کافر بدکار ہیں۔ ( عبس :۴۲۔ ٣٣)
قیامت کے دن نفسی نفسی کا عالم
عبس : ٣٣ میں فرمایا : پس جب کانوں کو بہر کرنے والی ( قیامت) آجائے گی۔
” صاخۃ “ کا معنی ہے : اس قدر شدید آواز جو کانوں کو بہرا کر دے، اور اس سے مراد دوسرا صور پھونکنا ہے جس کی ہیبت ناک آواز سن کر تمام مردے زندہ ہوجائیں گے۔ اس سے پہلی آیات میں انسان کے مرنے اور اس کے دفن ہونے کا ذکر فرمایا تھا، اور قبر میں مدفون ہونے کے بعد دوسرے صور کی آواز سے مردے زندہ ہوجائیں گے اور پھر حشر برپا ہو گا