Site icon اردو محفل

يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِ – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 34

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِ ۞

ترجمہ:

اس دن ہر شخص اپنے بھائی سے بھاگے گا۔

عبس : 36۔ 34 میں فرمایا : اس دن ہر شخص اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور باپ سے۔ اور اپنی بیوی سے بیٹوں سے۔

ہو سکتا ہے کہ بھاگنے سے اس کا ظاہری معنی مراد ہو، یعنی ایک دوسرے کے مطالبہ سے پیچھا چھڑانا اور اس سے دور ہونا، مثلاً ایک شخص اپنے بھائی سے کہے گا : تم نے میرے مال کو انصاف سے خرچ نہیں کیا اور ماں باپ کہیں گے : تم نے ہمارے ساتھ نیکی کرنے میں کوتاہی کی اور بیوی کہے گی : تم نے مجھے حرام ملا کھلایا، بیٹے کہیں گے : تم نے ہم کو تعلیم نہیں دی اور ہماری تربیت نہیں کی۔ ایک قول یہ ہے کہ سب سے پہلے جو شخص اپنے بھائی سے بھاگے گا وہ قابیل ہوگا جو ہابیل سے بھاگے گا اور جو شخص اپنی بیوی سے بھاگے گا وہ حضرت نوح اور حضرت لوط ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرار سے مراد دور جانا نہ ہو بلکہ اس سے مراد نصرت اور حمایت نہ کرنا ہو اور بےزار ہونا مراد ہو، جیسے یہ آیات ہیں :

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا (البقرہ : ٦٦١)

جن کافر سرداروں کی پیروی کی گئی تھی وہ ان سے بےزار ہوجائیں گے جنہوں نے پیروی کی تھی۔

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی شَیْئًا ( الدخان : ١٤) اس دن کوئی دوست کسی دوست کے بالکل کام نہیں آئے گا۔

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

قیامت کے دن نفسی نفسی کی وجہ یہ ہوگی کہ جتنے ہر ایک کے دوسرے پر حقوق ہوں گے، ان کا مکمل طور پر ادا کرنا ممکن نہیں ہوگا تو قرابت داروں کو اس دن یہ خوف ہوگا کہ حقوق میں تقصیر کی وجہ سے ان پر گرفت کی جائے گی، اس وجہ سے وہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے اور ان میں سے ہر ایک اس وجہ سے بھاگے گا کہ اس کے اوپر اپنے قرابت داروں کا بوجھ نہ ڈال دیا جائے، جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں ہے :

وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِہَا لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْئٌ وَّلَوْکَانَ ذَاقُرْبٰی ط (فاطر : ٨١)

اگر کوئی بوجھل شخص اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے کسی کو بلائے گا تو اس کا بوجھ بالکل نہیں اٹھایا جائے گا خواہ وہ قرابت دار ہو۔

قرابت دار دنیا میں ایک دوسرے کا بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے سے تعاون نہیں کریں گے بلکہ بھاگیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زیر بحث آیت کفار کے متعلق ہو۔ رہے مسلمان تو ہوسکتا ہے کہ ان کے درمیان قرابت کے حقوق برقرار رہیں، جیسا کہ مسلمان دوستوں کے درمیان محبت باقی رہے گی۔ قرآن مجید میں ہے :

اَ لْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍم بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ ۔ (الزخرف : ٧٦)

تمام دوست قیامت کے دن ایک دوسرے دشمن ہوں گے ماسوا متقین کے۔

اور اگر زیر بحث آیت مسلمانوں اور کافروں دونوں کے ساتھ متعلق ہو تو ہوسکتا ہے کہ قیامت کے بعض احوال ایسے ہوں جن میں مسلمان قرابت دار ایک دوسرے سے بھاگیں گے، یہی نفسی نفسی کا موقع ہوگا، پھر جب انہیں امن ہوجائے گا اور ان کے پاس اجازت شفاعت کی بشارت آجائے گی تو وہ شفاعت کریں گے، ایک دوسرے کا حال معلوم کریں گے اور ایک دوسرے سے نہیں بھاگیں گے۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٧٨٣، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، ٥٢٤١ ھ)

 

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 34

Exit mobile version