اور تمہارے تین گروہ ہوجائیں گے۔ اور دائیں ہاتھ والے پس کیا خوب ہیں دائیں ہاتھ والے۔ اور بائیں ہاتھ والے پس کیسے ہیں بائیں ہاتھ والے۔ اور جو سبقت کرنے والے ہیں دونوں سبقت کرنے والے ہی ہیں۔
(٣) زیادہ عبادت کرنے والوں کا ایک گروہ بنایا، درمیانی عبادت کرنے والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر دوسرا گروہ بنایا جائے گا اور نافرمانی کرنے والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر تیسرا گروہ بنایا جائے گا۔
(٤) مؤمنین کی روحوں کو بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ ملا دیا جائے گا اور کافروں کی روحوں کو شیاطین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔
(٥) ہر نظریاتی گروہ کو اس کے افراد کے ساتھ ملا دیا جائے گا، یہودی کو یہودیوں کے ساتھ، عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ اور مسلمان کو مسلمانوں کے ساتھ۔
حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) سے ایت آیت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : جنت میں نیک آدمی کے ساتھ ملا دیا جائے گا، اور دوزخ میں بدکار کو بدکار کے ساتھ ملا دیا جائے گا اور حسن بصری اور قتادہ نے کہا ہر شخص کو اس کی جماعت کے ساتھ ملا دیا جائے گا، یہودی کو یہودی کے ساتھ اور نصرانی کو نصرانی کے ساتھ، الربیع بن خثیم نے کہا : ہر شخص کو اس کے عمل کے ساتھ ملا دیا جائے گا، عطاء اور مقاتل نے کہا : مؤمنین کی روحوں کو بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ ملا دیا جائے گا اور کافروں کی روحوں کو شیاطین کے ساتھ ملا دیا جائے گا، عکرمہ نے اس آیت کا معنی اس طرح کیا ہے کہ روحوں کو ان کے جسموں میں لوٹا دیا جائے گا۔
(معالم التنزیل ج ٥ ص ٦١٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٠٢٤١ ھ)