Site icon اردو محفل

وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 6

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ ۞

ترجمہ:

اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے۔

التکویر : ٦ میں فرمایا : اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے۔

” تسجیر “ کا معنی

امام مجاہدین حبر مخزومی متوفی ٤٠١ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب سمندر کو گرم کیا جائے گا، حتیٰ کہ وہ آگ ہوجائے گا، اور مجاہد نے کہا : سمندر میں آگ لگائی جائے گی۔ ( تفسیر مجاہد ص ٣٢٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ٦٢٤١ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

” تسجیر “ کا معنی ہے : تنور میں آگ جلا کر اس کو گرم کرنا، اور جب سمندروں میں آگ لگا دی جائے گی تو ان میں پانی بالکل نہیں رہے گی اور پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کردیا جائے گا اور اس وقت تمام سمندر اور زمینیں ایک چیز ہوجائیں گی، جو انتہائی گرم اور جلانے والے ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین تمام سمندروں کا پانی چوس لے اور بلند ہو کر پہاڑوں کی چوٹیوں کے برابر ہوجائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر مٹی ہوجائیں اور تمام زمینیں سمندر کی سطح کے مساوی ہوجائیں اور یہ سب کا سب گرم یا بھڑکا یا ہوا سمندر بن جائے۔

قفال نے کہا : اس آیت کے تین وجوہ سے تاویل ہوسکتی ہے :

(١) جہنم سمندر کی تہوں میں ہو اور دنیا کو قائم کرنے کے لیے اس وقت وہ گرم نہیں ہے اور جب دنیا کی مدت ختم ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ اس آگ کی تاثیر سمندر تک پہنچا دے گا، پھر اس سبب سے تمام سمندر بھڑکائی ہوئی آگ بن جائے گا۔

(٢) اللہ تعالیٰ سورج، چاند اور ستاروں کو سمندر میں ڈال دے گا، اس سبب سے سمندر بھڑکائی ہوئی آگ بن جائے گا۔

(٣) اللہ تعالیٰ سمندر میں بہت عظیم آگ پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے سمندر بہت گرم ہوجائے گا۔

امام رازی فرماتے ہیں کہ ان تاویلات کے تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو دنیا کو تباہ کرنے اور قیامت کو قائم کرنے پر قادر ہے، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ سمندروں کو گرم کر دے اور اس کے پانی کو آگ لگا دے اور اس کو اس کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ سمندر میں سورج اور چاند کو ڈالے یا اس کی تہوں میں جہنم ہو۔

( تفسیر کبیر ج ١١ ص ٥٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥١٤١ ھ)

یہ چھ علامتیں جن کا ذکر آچکا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا وقوع دنیا کو تباہ کرنے کے شروع میں ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا ووقع قیامت کے بعد ہو لیکن باقی چھ علامتیں، ان کا وقوع قیامت کے ساتھ مختص ہے۔

دوزخ کا مداق کس جگہ پر ہے ؟

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایک یہودی سے پوچھا : جہنم کہاں ہے ؟ اس نے کہا : سمندر میں، حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرا گمان ہے کہ وہ صادق ہے، قرآن مجید میں ہے :” والبحر المسجور۔ “ ( الطور : ٦) اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی قسم ! اور قرآن مجید میں ہے :” واذا البحار سبحرت۔ “ (التکویر : ٦) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٩٣٢٨٢، دارالفکر، بیروت، ٥١٤١ ھ)

ثمربن عطیہ نے کہا : والبحر السمجور۔ “ (الطور : ٦) بھڑکائے ہوئے تنور کے قائم مقام ہے اور ” واذا البحار سجرت “ (التوبۃ : ٦) بھی اس کی مثل ہے۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٢٨٢)

علامہ آلوسی نے امام رازی کی تفسیر کا بعض حصہ نقل کردیا ہے۔ (روح المعانی جز ٠٣ ص ١٩)

اس آیت کی جو تفسیر کی گئی ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن یہ سمندر آگ بن جائے گا لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہی سمندر وہ جہنم ہو، جس کا قرآن مجید اور احادیث میں تذکرہ ہے کیونکہ جہنم کو پیدا کیا جا چکا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دیکھا ہے اور اس کے بعض احوال بیان فرمائے ہیں اور جن کفار کو جہنم میں عذاب دیا جائے رہا ہے، ان میں سے بھی بعض کا ذکر فرمایا ہے، نیز قرآن مجید میں ہے :

مِمَّا خَطِـیْئٰـتِـہِمْ اُغْرِقُوْا فَـاُدْخِلُوْا نَارًا (نوح : ٥٢)

قوم نوح کو ان کے گناہوں کی وجہ سے غرق کردیا گیا پھر فوراً ان کو جہنم کی آگ میں داخل کردیا گیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ اس سمندر کے علاوہ کوئی اور چیز جہنم ہے جس کی آگ میں قوم نوح کو داخل کیا گیا اور جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا اور ان لوگوں کو دیکھا جن کو جہنم میں عذاب دیا جا رہا ہے، رہا یہ سمندر تو اس کو قیامت میں بھڑکا یا جائے گا اور اس کے پانی کو آگ بنایا جائے گا، سو یہ سمندر جہنم کا مصداق نہیں ہے اور قرآن اور احادیث میں صراحت کے ساتھ یہ بیان نہیں کیا گیا کہ جہنم کہاں پر ہے، اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اور حضرت علی (رض) سے جو اثر منقول ہے اور وہ اس باب میں قطعی الثبوت نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

القرآن – سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 6

 

Exit mobile version