Site icon اردو محفل

اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِىۡ نَعِيۡمٍ سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 22

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِىۡ نَعِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

بیشک نیکو کار ضرور ( جنت کی) نعمت میں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک نیکو کار ضرور (جنت کی) نعمت میں ہیں۔ عزت والی مسندوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔ آپ ان کے چہروں میں نعمت کی تازگی پہچان لیں گے۔ ان کو مہر لگی ہوئی شفاف شراب پلائی جائے گی۔ اس کی مہرمشک ہے اور اسی میں رغبت کرنے والوں کو رغبت کرنی چاہیے۔ اور اس میں ( چشمہ) تسنیم کی آمیزش ہے۔ اس چشمہ سے مقربین پیتے ہیں۔

(المطففین : ٢٨۔ ٢٢ )

جنت میں ابرار کی نعمتیں، ” رحیق مختوم “ اور ” تسنیم “ کے معانی

ابرار یعنی نیکو کار جنت کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہو رہے ہوں گے، اور وہ اپنی مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کرامات کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں، مقاتل نے کہا : وہ اپنی مسندوں پر بیٹھے ہوئے اہل دوزخ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے، ایک قول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال ذات کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔

ان نعمتوں کے ملنے سے ان کی جو خوشی ہوگی اور ان کے چہروں پر جو رونق اور تر و تازگی ہوگی، اس کو دیکھ کر آپ انہیں پہچان لیں گے، ان کو شراب طہور پلائی جائے گی جس میں کوئی تلخی ہوگی نہ کوئی نشہ ہوگا، اس آیت میں ” رحیق “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : صاف اور شفاف شراب، اس شراب پر مشک کی مہر لگی ہوئی ہوگی، حضرت ابن مسعود نے فرمایا : شراب پینے کے بعد ان کو مشک کا ذائقہ آئے گا۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان نے کسی بےلباس مسلمان کو لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائے گا، اور جس مسلمان نے کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلایا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھلوں سے کھلائے گا، اور جس مسلمان نے کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلایا، اللہ اس کو ” رحیق مختوم “ ( مشک کے ذائقہ والی شراب) پلائے گا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٧٢)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 22

Exit mobile version