ہرگز نہیں ! بلکہ ان کے ( برے) کاموں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا۔
المطففین : ١٤ میں فرمایا : ہرگز نہیں بلکہ ان کے ( برے) کاموں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا۔
دل پر زنگ لگنا
لفظ ” کلا “ سے کفار کے رد فرمایا ہے یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے نہیں ہیں۔
اس آیت میں ” ران “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” ریسن “ ہے، اس کا معنی ہے : کسی چیز کا زنگ آلود ہونا اور میلا ہونا۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے اور جب وہ اس گناہ کی تلافی کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ اس گناہ کو کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ زیادہ ہوجاتا ہے حتیٰ کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے اور یہ وہ ” ران “ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے :” کَلَّا بَلْسکتہ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (المطففین : ١٤) امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٣٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٤٤ )
اسی طرح مفسرین نے کہا ہے کہ مسلسل گناہ کرتے رہنے سے دل سیاہ ہوجاتا ہے، فراً نے کہا : جس شخص کے گناہ بہت زیادہ ہوجائیں تو وہ اس کے دل کا احاطہ کرلیتے ہیں اور یہی دل کا زنگ ہے، مجاہد نے کہا : جب بندہ ایک گناہ کرتا ہے تو اس کی مثل یہ ہے، انہوں نے اپنی ہتھیلی کی ایک انگلی بند کرلی اور جب دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس کی مثل یہ ہے، انہوں نے دوسری انگلی بند کرلی، پھر جب بار بار گناہ کرتا ہے تو اس کی مثل یہ ہے، انہوں نے ساری انگلیاں بند کر کے مٹھی بند کرلی حتیٰ کہ اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔