المطففین : ٢١۔ ١٨ میں فرمایا : بیشک نیکو کاروں کا صحیفہ اعمال ضرور علیین میں ہے۔ اور آپ کیا سمجھے کہ علیین کیا ہے ؟۔ وہ مہر لگایا ہوا صحیفہ ہے۔ جس پر اللہ کے مقرب بندے گواہ ہیں۔
اس کے بعد فرمایا : وہ مہر لگایا ہوا صحیفہ ہے۔
علامہ قرطبی نے یہ روایت ذکر کی ہے :
فرشتے بندوں کے اعمال لے کر اوپر چڑھتے ہیں، جب وہ اوپر پہنچتے ہیں تو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے : تم میرے بندے کے اعمال کے محافظ ہو اور میں اپنے بندے کے دل کا نگہبان ہوں اور اس نے اخلاص سے میرے لیے عمل کیا ہے، اس کے اس عمل کو علیین میں رکھ دو ، بیشک میں نے اس کو بخش دیا ہے اور فرشتے کسی اور بندے کے عمل کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں، جب وہ اوپر پہنچتے ہیں تو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے : تم میرے بندے کے اعمال کے محافظ ہو اور میں اس کے دل کا نگہبان ہوں، اس نے یہ عمل اخلاص سے میرے لیے نہیں کیا، اس عمل کو سجین میں رکھ دو ۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٢٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)