Site icon اردو محفل

حصول ثواب کےلئے مار رہا ہوں

حصول ثواب کےلئے مار رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔
تحریر :محمد محمود تونسوی  زید شرفہ
۔۔۔۔۔۔
حالیہ شورش پر ایک دردمندانہ ناصحانہ تحریر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
علامہ ابن جوزی نے “کتاب الاحمقی ” میں لکھا ہے کہ ایک جگہ کچھ لوگ مل کرایک شخص کو مار پیٹ رہے تھے۔ کہتے ہیں میں نے ایک شخص جو ان مارنے والوں میں سے تھا اور  خوب مارہا تھا اس کو میں نے ذرا پیچھے کھینچ کر  پوچھا : حضرت اس شخص کو کیوں مار رہے ہو ؟ اس نے کہامجھے معلوم نہیں کیوں مارہے ہیں !!! میں نے کہا پھر آپ کیوں مارہے ہیں ؟ کہتے ہیں میں تو صرف ان کو دیکھ کر اس کو کار خیر سمجھ کر ثواب کی نیت سے مارہا ہوں 😆

قبلہ جلالی صاحب نے پانچ سے پہلے روافض کا رد کرتے ہوئے ایک بیان دیا اس پر روافض نے دیرینہ دشمنی کی بھڑاس نکالنی کےلیے “ثواب کی نیت سے ” جلالی صاحب پر گستاخی کا الزام لگا کر خوب شور شرابہ کیا ۔۔
اس شور شرابہ کو سن کر سنیوں میں چھپے کچھ مائل بہ رفض اور صلح کلیت والوں کو اپنے بھڑاس نکالنے کا موقع ملا سو وہ بھی اس کار خیر میں ” ثواب کی نیت سے ” شریک ہوئے اور خوب گستاخی کے فتوے لگائے گالی گلوچ حتی کہ ماں بہن کومعاف نہیں کیا الغرض انتشار و افتراق اور پروپیگنڈے  کی زبردست آگ بھڑکائی ۔۔۔۔۔۔
اسی دوران کچھ اہلسنت کے جید محققین نے سوچا مفت میں ثواب ہاتھ آرہا ہے کیوں نہ ہم بھی ” ثواب کی نیت سے ” کچھ تحقیق کے نام سے پھول نچھاور کریں سو انہوں نے بھی اپنا حصہ معاف نہیں کیا ۔۔۔۔۔
پھر ان میں سے ہرایک کے مرید،شاگرد اور چاہنے والے تھے جن کو سیدھا استنجا کا طریقہ ہی نہیں آتا  “خطاء اجتھادی ” کا معنی و مفہوم کیا خاک سمجھ آئے تو ان خیر کے حریصوں نے دس قدم بڑھ کر آستین چڑھا کر صرف اپنے قائدین و محققین  کو دیکھ کر “ثواب کی نیت سے ” تابڑ توڑ حملے ” کیے
بلآخر اپنے پرائے سب کایہ اجتماعی حملہ کامیابی تک پہنچ گیا  اور جلالی صاحب کو  چھ ماہ جیل میں قید کروایا گیاپھر ان مجاہدین  نے مل بیٹھ کر اس عظیم فتح کا آپس میں ایصال ثواب کیا اور خوب خوشیاں منائی مٹھائیاں بانٹی ہیں!!!
سمجھا کہ  اب جب جلالی صاحب جیل سے رہا ہوں گے تو ان کا سافٹ وئیر اپڈیٹ ہوچکا ہوگا ۔اور ہم جو کریں گے اب جلالی کی جرات نہیں ہوگی  کہ ہمیں روک ٹوک کرے ۔
خیرچھ ماہ جیل کے بعد جب جلالی صاحب واپس تشریف لائے تو ان محسنین امت کے خیال کے برعکس  انہوں نے ماضی اور حال کے وہ علما جنہوں نے نہ صرف صحابہ و اہلبیت بلکہ انبیاء و رسل کی طرف “خطاء اجتھادی ” کی  نسبت کی ۔اور کہا جو فتوی مجھ پر لگارہے ہو ان پر کیوں نہیں لگاتے ؟
ان میں سے ہر ایک نے یہی کہا ہمیں تو کچھ پتہ نہیں کہ گستاخی کا فتوی کیوں لگایا ؟ ہم تو صرف اس کار خیر میں ثواب کی نیت سے شریک ہیں !!!
الغرض قبلہ جلالی صاحب نے حسب سابق اذان حق دینا نہیں چھوڑی ۔
جب سب نے گالی گلوچ اور لع۔ن طعن کرکے بھڑاس نکالی اور  تھک گئے تو کم و بیش دو تین سال  عوام اہلسنت کو اس مسئلے میں کچھ سکون کا سانس لینے دیا لیکن پھر تین سال کے  بعد اچانک  کچھ عشقان اہلبیت  کو خیال آیا سب نے اس کار خیر میں بھر پور ثواب کمایا تو ہم کیوں پیچھے رہیں (اس وقت شاید سو رہے تھے جب لوگ ثواب کی بوریاں بھر بھر کر لے کر جارہے تھے یا پھر رش اتنا تھا کہ ان بچاروں کو آگے آنے کا موقع نہیں ملا یا پھر اگراس اژدحام میں وہ حصہ لیتے تو شاید ان کا نام عشاقان صادقین میں تاریخ کے اوراق میں نہ لکھا جاتا ) تو خیر سے انہوں نے پچھلے رکارڈ توڑ دیے یعنی گویا ازسر نو پٹرول میں آگ لگا کر یہ تماشا دیکھنے کےلئے سکون سے بیٹھ گئے !!!!!
پھر جو پہلے اس مہم عظیم میں کام کر کر کے تھک کر سکون کررہے تھے اس نئے شور و غوغا سے وہ عاشقان اہلبیت بھی جاگ اٹھے ۔ اور کچھ محققین کو پہلے موقعہ نہیں ملا وہ بھی تحقیق کے دفتر کھول کر اپنی عدالت لگا بیٹھے ایک دفعہ پھر سب مل کر ثواب کی نیت سے جلالی پر حملہ آور ہوئے  ہنوز “حصول ثواب ” کا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ثواب و اجر کے حریصوں اور عاشقوں کا ایک تانتا بندھ گیا ۔۔۔۔۔

ان سے پوچھا جائے آپ یہود و نصاری ،روافض و خوارج کو اور فلسطین کی سرزمین پر بے گور و کفن پڑی مسلمان بچوں کی لاشیں جنہیں بلی اور کتے بھمبھوڑ رہے ہیں اور پاکستان میں نظام مصطفی کے نفاذ کی فکر کو چھوڑ کر اس مشن میں پچھلے چھ سال سے اس قدر کیوں محنت کررہے ہیں؟ الحاد، لبرازم، بدمذہبیت تمہارے گھروں میں گھس کر تمہارے اپنے خاندان کے بندوں کے عقائد تباہ و برباد کررہے ہیں اس کی فکر تمہیں کیوں جوش نہیں دلاتی ؟  اور جلالی پر گستاخی کے فتوی بازی اور گالم گلوچ لع۔ن طعن کیوں کررہے ہیں ؟اور ہر وقت سیدہ کائنات رضی اللہ عنھا کی آڑ لے کر ان کے نام پاک  مناظروں مجادلوں اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثہ کی نظر کیوں  کررہے ہیں ؟
تو شعلہ مارتا ہوا جواب اس طرح موصول ہوتا ہے :ہم عاشق صادق ہیں اور جلالی اور اس کے ساتھ دینے والے بلکہ اس کا احترام کرنے والے بھی  دشمن زہر ا ہیں اس لیے ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے پہلے تو جیل میں قید کروایا اب اس کو جینے کا حق بھی چھین لیں گے ۔
جب پوچھا جاتا ہے خطاء اجتھادی کوکس امام نے گستاخی کہا ؟ اور پھر یہ گستاخی صرف حضرت زہرا کےلیے ہے تو پھر انبیاء و رسل اور جلیل القدر صحابہ کےلئے کیوں نہیں ؟ تو جواب آتا ہمیں نہیں پتہ ہم تو صرف ثواب کی نیت سے یہ سب کچھ کررہے ہیں ۔۔🙏🙏🙏
ہم ان ثواب کے حریص قوم کو خدا و رسول کا واسطہ دے کر کہتے ہیں اب کسی اور جگہ ثواب تلاش کریں یہاں خوب کمالایا ہے اس مسئلہ کی جان چھوڑیں اس طرح ہم محققین سے بھی دستہ بستہ اپیل کرتے ہیں کہ اب اپنی لاجواب تحقیق کا رخ کسی اور طرف موڑیں اس مسئلہ پرچھ سال کارسرچ کافی ہے مزید تحقیق کے متحمل ہمیں معافی بخشیں   🙏

سیانے لوگوں نے کیا خوب فرمایا :
کرنے والے کام کرو ورنہ نہ کرنے والے کاموں میں پھنس جاو گے ۔

بس آگے ہم کچھ نہیں کہتے اھل عقل و شعور کےلئے اتنا کافی ہے ۔
رب العالمین ہمیں عقل و شعور نصیب کرے آمین ۔

Exit mobile version