غزوۂ اُحد کے دوران جب مسلمانوں کو وقتی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور زیادہ تر لوگ کچھ افواہوں اور غلط فہمی کی بنیاد پر میدان چھوڑ گئے، تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کچھ بہادر صحابہ کرام آخر تک ثابت قدم رہے۔ روایات کے مطابق، ان کی تعداد چودہ تھی۔ ان میں سات مہاجرین اور سات انصار شامل تھے۔ ان صحابہ کے نام درج ذیل ہیں:
مہاجرین:
1. حضرت ابو بکر صدیقؓ
2. حضرت عمر بن خطابؓ
3. حضرت علی بن ابی طالبؓ
4. حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ
5. حضرت زبیر بن عوامؓ
6. حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ
7. حضرت سعد بن ابی وقاصؓ
انصار:
1. حضرت سعد بن معاذؓ
2. حضرت اسید بن حضیرؓ
3. حضرت ابو دجانہؓ
4. حضرت حارث بن صمہؓ
5. حضرت قتادہ بن نعمانؓ
6. حضرت انس بن نضرؓ
7. حضرت معاذ بن جبلؓ
ان کے کارنامے:
1. ان صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں اپنی جان کی بازی لگا دی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی بلند آواز میں مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سلامت ہونے کی خبر دی اور کفارِ مکّہ کی افواہوں کا جواب دیا
2. حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ نے اپنا بازو تیر روکتے ہوئے شل کروا لیا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے اپنی تیر اندازی اور تلوار بازی سے شجاعت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
3. حضرت ابو دجانہؓ اور حضرت علیؓ نے اپنی تلواروں سے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی۔
4. حضرت قتادہ بن نعمانؓ نے اپنی آنکھ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت میں قربان کی، جو بعد میں رسول اللہ ﷺ کی دعا سے ٹھیک ہوگئی۔
نتیجہ:
یہ چودہ صحابہ کرام غزوۂ اُحد کے میدان میں بہادری اور وفاداری کی اعلیٰ مثالیں قائم کرنے والے تھے۔ ان کی قربانیوں نے اسلامی تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کیا ہے۔
