باغ فدک کے مسئلہ سے بہت بڑا نکتہ حل ہو جاتا ہے، سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تقاضا لے کر جانا اس بات کو ثابت کرتا ہے وہ حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفتہ الرسول مانتی تھیں وگرنہ وہ کہہ دیتیں میں ان کو مانتی ہی نہیں۔ پھر وہاں جا کر باغِ فدک کی وراثت کا تقاضا کرنا مگر کسی کمزور سے کمزور اور جھوٹی روایت میں بھی مسئلہ خلافت پر بات نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے حضرتِ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، اپنے نانا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ بلا فصل مانتی تھیں ،وگرنہ خلافت کا مسئلہ تو ہر لحاظ سے زیادہ اہم اور ضروری تھا۔۔۔۔ اور اہل ایمان و اہل علم کا وطیرہ ہے حق بات سن کر اس کو مان لیتے ہیں جب حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کی طرف توجہ دلائی تو وہ بھی مطمئن ہو گئیں جیسا کہ ورثا میں حضرت عباس نے دعویٰ کیا اور ازواج مطہرات کا بھی حصہ بنتا اگر وراثت کی تقسیم ہوتی ۔۔ حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیٹی، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو زوجہ رسول تھیں کو بھی فدک کی وراثت نہیں دی کیونکہ یہ وراثت تھی ہی نہیں
صحیح بخاری حدیث 3093 کا متن کچھ یوں ہے:> قال أبو بكر رضي الله عنه: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: “نحن معاشر الأنبياء لا نورث، ما تركنا صدقة
:ترجمہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
“ہم انبیاء کا گروہ وراثت نہیں چھوڑتے، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
نوٹ:
بخاری شریف میں مذکور فدک کے متعلق روایت مختلف کتب احادیث میں 32 مقامات پر موجود ہے جن میں سے 16 مقامات پر شہاب زہری راوی ہے اور صرف شہاب زہری کی روایات میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ناراضگی کے اضافی الفاظ ملتے ہیں دیگر روایات میں کسی نے سیدہ خاتونِ جنت کے متعلق ایسے الفاظ بیان نہیں کیے جو کہ ہر گز ان کے شایان شان نہیں پس محققینِ جرح و تعدیل کے نزدیک یہ الفاظ شہاب زہری کی طرف
سے اضافہ ہیں
