Site icon اردو محفل

بیٹیوں اور بہنوں کا حق کھانے والے حرام خور

✍🏻: محمد منعم مدنی(مدینہ منورہ)
بیٹیوں اور بہنوں کا حق کھانے والے حرام خور!!!

اسلام کی تمام تعلیمات اور اس کے تمام اصول بے مثال، باکمال اور لازوال ہیں۔ جس اصول پر جتنا گہرائی میں سوچا جائے انگ انگ مسرت سے جھومنے لگتا ہے۔ بعض لوگ کہتے کہ اسلام نے خواتین کو کیا دیا ہے؟؟؟ انصاف کی عینک لگا کر اسلام کے وراثتی اصول کی جانچ کریں۔ اس میں بہنوں بیٹیوں، بیویوں اور ماؤں سمیت تمام جہاتِ نسواں کیلئے باقاعدہ حصے رکھے گئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کمال یہ کہ میراث کی تقسیم سے پہلے اگر کوئی وارث اپنی مرضی سے withdraw چاہے تو ہزار دفعہ کرتا رہے شرعا اس کا اپنے حصے سے دست بردار ہو جانا معتبر نہیں ہے۔ البتہ ترکے کی تقسیم کے بعد اپنے حصے پر قبضہ کر لینے کے بعد وہ اپنا حصہ جسے دینا چاہے دے دے، اب ثواب کے ساتھ ساتھ رب کی رحمت کا امیدوار بننے کی سعادت ہے۔
ہمارے ہاں ایک مرض یہ بھی ہے کہ بہنوں کو حصوں سے محروم کیا جاتا ہے، وہ اگر مطالبہ نہ بھی کریں تب بھی انہیں ان کا حق دینا ضروری ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شریعت میں  ان کا حصہ مقرر کیا ہے ۔
اسی طرح شیطان کے ورغلانے اور دل میں لالچ کے ڈیرے جمانے کے سبب ایک برائی ہمارے ہاں یہ بھی عروج پر ہے کہ بہن یا بیٹی  کی دھوم دھام سے شادی کر دی تھی اس لیے اب اس کا حصہ ہوگیا۔ او بھائی کہاں ہوگیا؟؟؟  بہن بیٹی کی دھوم دھام سے شادی کے آپ مکلف نہیں ہیں شریعت نے آپ کو کب حکم دیا ہے کہ دھوم دھام سے شادی کرو بہن یا بیٹی کی؟؟؟  آپ شرعا اس کے حصے کی ایک ایک سوئی اسے دینے کے مکلف ہیں اور اس کے جواب دہ بھی۔
اسی طرح کبھی دوسری شادی کر لینے پر پہلی بیوی کو ترکے سے محروم کرنے کی جسارتیں کی جاتی ہیں۔ اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے، وقت فوت جو عورت نکاح میں تھی اسے مرحوم شوہر کے ترکے سے حصہ ملے گا۔ یہ شریعت کا فیصلہ ہے یہ ان کا فیصلہ ہے جن کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ جی ہاں! عدت کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کر لے تب بھی اس کا حق وراثت برقرار رہے گا۔ بعض بے غیرت و بے شرم رشتہ دار اپنی بیٹیوں بہنوں کو حیلے بہانوں اور طرح طرح کی ترکیبوں کی مدد سے اپنا حصہ معاف کروانے اور نہ لینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ معاف کرنے یا کروانے سے ان کا حصہ ختم نہیں ہوگا، مردوں پر لازم ہے کہ وہ حق دار عورتوں کو ان کا حصہ دیں اور خاندان کی عورتوں کو بھی چاہئے کہ شریعت کو فالو کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:”مَنْ قَطَعَ مِیْرَاثَ وَارِثِہٖ قَطَعَ اللہُ مِیْرَاثَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ” یعنی جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا اللہ پاک قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو کاٹ دے گا۔۔۔
اب فیصلہ آپ کا ہے؟؟؟؟؟

محمد منعم مدنی
مدینہ منورہ
23:01:2025

Exit mobile version