Site icon اردو محفل

شبِ معراج اور ہمارے جھنجھٹ پسند علماء

شبِ معراج اور ہمارے جھنجھٹ پسند علماء

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب جب بھی کسی مقدس یوم یا شب کا تذکرہ ہوتا ہے تو اہل علم کے بعض طبقات اس بحث کو لے بیٹھتے ہیں کہ  سیرت سے متعلق اس واقعہ کی یہ تاریخ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ شب معراج کی یہ تاریخ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی اس شب میں کسی قسم کی عبادت ثابت ہے۔
یہ وہ مغالطہ ہے جس میں اگر کوئی عام شخص مبتلا ہوتا تو شاید اتنی تعجب کی بات نہ تھی لیکن عالم دین کا ٹائٹل رکھنے والے حضرات بھی اگر اسی مغالطے کا شکار ہی نہیں بلکہ اس کے پرچارک نظر آئیںنتو واقعی عقل سلیم کو تعجب ہوگا۔ اس حوالے سے دو باتیں ہمارے دوستوں کو سمجھ لینی چاہئیں:

اول: یہ کہ معراج ہو یا کوئی اور واقعۂ سیرت اس کی تاریخ کا تعلق علم حدیث سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق علم تاریخ سے ہے۔ کسی بھی واقعہ کی جو تاریخ علمائے سیرت و تاریخ کی اکثریت نے بیان کی ہو اسی پر ہی ہم اعتماد کرسکتے ہیں۔ ایسے واقعات کی یقینی یا اغلبی  تاریخ کے لیے  ” صحیح حدیث” پیش کرنے کا مطالبہ ہی غلط ہے۔
دوم یہ کہ:  رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے تعلق رکھنے والے عظیم الشان واقعات جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا اظہار ہوا ان کے ایام اور تاریخوں میں عبادت کرنے کی اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سوموار کا روزہ رکھنا ہے جس کے اسباب میں سے ایک سبب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ولادت کو بھی قرار دیا۔ یہی اصل ہے اس بات کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت شان کا جن ایام اور جن راتوں میں اظہار ہوا انہیں عبادت کے لیے متعین کرنا درست ہے اور غیر شرعی نہیں ہے۔

اسی واقعہ معراج کے حوالے سے ایک اور اعتراض بھی کسی طرف سے وائرل ہوا تھا جس پر مندرجہ ذیل وضاحت عرض کی تھی:

معراج النبی کی تاریخ کا تعین اور بعض اہل علم کی بے چینیاں

ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کوئی خاص دن یا شب منائی جاتی ہے تو اس وقت ایک مخصوص فکر کے افراد حسب توفیق یہ شور مچاتے نظر آتے ہیں کہ جس تاریخ کو بنیاد بنایا گیا ہے یہ یقینی اور حتمی ہے ہی نہیں۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
حسب معمول اس بار شب معراج کے حوالے سے بھی کچھ ایسی ہی تحریریں نظر سے گزری ہیں۔ ان کا لب لباب یہ ہے کہ اہل عرب نے چونکہ مہینوں میں کمی بیشی اور تحریف کررکھی تھی اس لیے یہ یقینی نہیں ہے کہ شب معراج 27رجب ہی ہے یا کوئی اور دن اور مہینہ ہے جس میں یہ معجزہ رونما ہوا۔ لہذا شب معراج کے حوالے سے خاص نوافل اور اذکار واوراد کا تعین لاحاصل ہے۔
مہینوں میں تحریف کا پہلو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مخفی نہیں تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اسی تحریف کے دورانیے میں ہی عبادات فرض کی گئیں اور نہ صرف فرض ہوئیں بلکہ ان کی ادائیگی بھی پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ کی گئی۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃالوداع کے خطبہ میں میدان عرفات میں یہ اعلان فرمایا کہ ایام زمانہ جس تحریف کا شکار تھے آج گھوم پھر کر اپنی اصل پر آچکے ہیں۔ مطلب یہ کہ صرف حجۃالوداع ہی اپنی صحیح تاریخ کو ادا کیا گیا اور اس سے پہلی عبادات اسی تحریف کے دورانیے میں ادا کی جاتی رہیں۔ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق کو امیر الحج مقرر فرماکر حج پر روانہ فرمایا تھا۔ یہ حج بھی تحریف کے ایام میں ادا کیا گیا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کسی بھی قسم کی تشکیک کا اظہار نہیں فرمایا۔
اس سے پہلے رمضان کے روزے دو ہجری میں فرض ہوئے اور یہ بھی یقینی ہے کہ یہ روزے تحریف_شہور کے زمانے میں رکھے جاتے رہے۔ علاوہ ازیں ہر وہ عبادت جس کا تعلق ہفتے کے ایام کی بجائے ایک خاص مہینے کے ساتھ تھا مثلاً عیدالفطر عیدالاضحیٰ عاشورہ کے دن کا روزہ وغیرہ یہ سب اسی تحریف کے دنوں میں ادا ہوتے رہے۔
اس مختصر تذکرہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر شان نبوی کے حوالے سے مسلمان کسی خاص مہینے اور تاریخ کی شہرت کی وجہ سے وہ دن مناتے ہیں تو ان پر اعتراض کرنا یا اس تاریخ کے حتمی نہ ہونے کی بحث چھیڑ کر اس شب کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کرنا درست نہیں ہے۔ ایسی تحقیق کو علمی تحقیق کی بجائے محرومی پر مبنی تحقیق ہی کہا جاسکتا ہے
اس لیے عصر حاضر کے افلاطونوں سے گزارش ہے کہ شان نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اظہار کے ایام میں اپنا تاریخی کیلنڈر کھول کر نہ بیٹھ جایا کریں بلکہ جس شب اور تاریخ کو بھی مسلمان خاص  شان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کریں انہیں یہ تذکرہ کرنے دیا جائے۔

عبد المجید
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

Exit mobile version