افطار کا وقت
یہ فتنوں کا دور ہے،ہر شخص مجدد بنتا ہے اور جو اسکی سمجھ میں آتا ہے ویڈیو بناکر اپلوڈ کرکے خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے
مثلاً کل ایک ویڈیو پر نظر پڑھی ایک شخص جو خود کو سنی بول کر کہتا ہے:
میں تو ایک خاص مکتبہ فکر(شیعہ) کی طرح پانچ دس منٹ بعد روزہ افطار کرتا ہوں
کیونکہ میری سمجھ میں وہ ٹھیک ہیں کیونکہ دوسرے لوگ ابھی روشنی ہے اور افطار کرتے ہیں(ایک ویڈیو افطار کی دکھاتا ہے)
سچ فرمایا میرے نبی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے:
اِتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَاَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَاَضَلُّوا
ترجمہ: لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ، جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے ، تو وہ خودبھی گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے۔
سب سے پہلی بات جو امت ساڑھے چودہ سو سال سے غروب آفتاب پر روزہ افطار کرتی چلی آرہی ہے وہ سب غلط کررہے ہیں
ساڑھے چودہ سو سال میں کبھی کوئی ایسا عالم و فقیہ نہیں گزرا جو قرآن و حدیث کو سمجھنے والا ہوتا تاکہ افطار کا صحیح وقت بتاتا
کسی بھی صحابی،تابعی،امام،فقیہ،وعالم کو اس مسئلے کا علم نہیں تھا اور آج تک کسی کو علم نہ ہوا اور ایک شخص آٹھ کر کہتا ہے کہ افطار تو غروب آفتاب کے پانچ دس منٹ بعد ہی درست ہے
سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ یہ پانچ دس منٹ کی قید قرآن و حدیث میں کہاں ہے کہ :
افطروا بخمس او عشر دقائق بعد غروب الشمس
کہ غروب آفتاب کے پانچ یا دس منٹ بعد افطار کرو
دوسری بات جو دوسرے لوگ کہتے ہیں
قرآن میں ہے:
ثم اتموا الصیام الی اللیل
پھرپھر رات آنے تک روزوں کو پورا کرو
تو کہتے ہیں: اس لئے ہم مغرب کے بعد پانچ دس،منٹ بعدرات میں روزہ افطار کرتے ہیں
جواب یہ ہے کہ یہی انکی جہالت ہے
کیونکہ پانچ دس منٹ کی قید کیوں؟
رات تو فجر(صبح صادق) تک ہوتی ہے
“القاموس المحيط” میں ہے:
اللَّيْلُ: من مَغْرِبِ الشمسِ إلى طُلوعِ الفَجْرِ الصادِقِ أو الشمسِ
رات: غروب آفتاب سے طلوع صبح صادق فجر یا طلوع شمس تک ہوتی ہے
لہذا افطار کم ازکم عشاء تک یا رات کی آخری گھڑی یعنی سحری میں کرلیا کرو تاکہ افطاری و سحری ساتھ ہو اور ڈبل محنت بھی نہ ہو۔
یہ پانچ دس منٹ کی قید کیوں؟
اس لیے کہ رات تو پوری رات کا نام ہے
ایسے لوگوں کی جہالت سے خدا بچائے
حالانکہ اسی قرآن کی آیت میں ہی ثابت ہے کہ افطار کا وقت غروب آفتاب کے فورا بعد ہے
وہ کیسے؟
اسطرح کہ رب نے یہ نہیں فرمایا کہ
اتموا الصیام مع الليل
روزوں کو رات سمیت پورا کرو
اگر یہ ہوتا تب تو غروب آفتاب کے بعد رات کا کچھ حصہ گذرتا تب ہی روزہ افطار کیا جاتا یعنی کم ازکم وہی پانچ دس پندرہ منٹ
لیکن رب رب ہے عالم الغیب ہے
اسکے علم کا کمال،کمال ہے
لفظ #مع نہیں فرمایا بلکہ لفظ #الی فرمایا۔
عربی میں قاعدہ ہے کہ:
لفظ #الی سے پہلے اور بعد میں جو الفاظ آئیں انکو دیکھا جائیگا کہ الی سے پہلے والا لفظ،الی کے بعد والے لفظ کی جنس میں داخل ہے یا نہیں؟
اگر داخل ہے تو #الی #مع یعنی #سمیت کے معنی میں ہوگا
مثلا ً:
وضو کے بارے میں رب فرماتا ہے
فَاغْسِلُوْا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ
تو تم اپنے ہاتھوں کو دھولو کہنیوں تک(یعنی کہنیوں سمیت)
اب دیکھیں اس آیت میں ایدی(ید) اور مرافق(مرفق)آیا ہے
#مرفق یعنی #کہنی اور #ید یعنی #ہاتھ
کہنی ھاتھ سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ ہاتھ ہی کی جنس میں داخل ہے
اور لفظ الی سے پہلے ایدی اور الی کے بعد مرافق ہے
اور قاعدہ کے مطابق اگر الی سے پہلے والا لفظ،الی کے بعد والے لفظ کی جنس میں داخل ہے تو معنی ہوگا سمیت
اس لئے وضو میں ھاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا فرض ہے۔
اور اگر الی کا ماقبل،مابعد کی جنس میں داخل نہیں تو #الی #انتہا یعنی #تک کے معنی میں ہوگا
اسکی مثال یہی روزہ والی آیت
اتموا الصیام الی اللیل
یہاں صیام، الی سے پہلے ہے اور صیام یعنی روزہ دن میں ہوتا ہے
چونکہ دن ،رات کی جنس میں داخل نہیں
کیونکہ دن، رات کی ضد ہے
دن الگ ہے رات الگ ہے اس لئے اسکی جنس میں داخل نہیں
جب الی کا مقابل ،مابعد کی جنس میں داخل نہیں
تو الی کا معنی مع یعنی سمیت نہیں ہوگا بلکہ انتہاء یعنی تک
یعنی دن کی جیسے ہی انتہاء ہوجائے تو افطار کرلو
کیونکہ غروب شمس سے دن کی انتہا ہوجاتی ہے اور رات کی ابتداء
اس لئے جیسے ہی غروب شمس ہوگیا روزہ ختم اور افطار شروع
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے:
عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرْتَ
(سنن ترمذی)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رات آجائے اور دن چلا جائے، اور سورج غروب ہوجائے تو افطار کرلو۔
دیکھیں قرآن کی صححیح تشریح تو خود آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماسکتے ہیں
اور واضح ارشاد فرمایا کہ
جب دن چلا جائے یعنی دن کی انتہاء ہوجائے
اور رات آجائے اور وہ کب آتی ہے؟
فرمایا جب سورج غروب ہوجائے۔
پھر کیا کریں؟ پانچ دس منٹ انتظار؟
نہیں بلکہ فرمایا: فقد افطرت
ف تعقیبیہ
یعنی فورا افطار کرو
اور اسی حدیث پر ساڑھے چودہ سو سال سے امت عمل کرتی چلی آرہی ہے
✍️ذوالقرنین رضوی
